Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • غزہ میں آکسیجن اسٹیشنز کی مکمل بندش کا خدشہ: وزارتِ صحت
    • ترکیہ غزہ کو تنہا نہیں چھوڑے گا: طیب اردوان
    • پنجاب کا 2029 تک اے آئی سے فعال صوبہ بننے کا منصوبہ
    • اعصام الحق نے آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپئن شپ کا مکسڈ ڈبلز ٹائٹل جیت لیا
    • پی ایس جی نے ورلڈ کپ ہیرو فیران ٹوریس کو بارسلونا سے سائن کرلیا
    • پاکستان نے ایشین نیٹ بال چیمپئن شپ کا پلیٹ ڈویژن ٹائٹل جیت لیا، فائنل میں تھائی لینڈ کو 55-50 سے شکست
    • لاہور میں خوفناک حادثہ، تیز رفتار گاڑی درخت سے جا ٹکرائی، 5 افراد جاں بحق
    • ربیع الاول کی آمد پر روضہ امام حسینؓ سبز روشنیوں سے جگمگا اٹھا
    • ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا شیخ زاید ہسپتال کا دورہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شیخ زاید ہسپتال کا دورہ کر کےانتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج اپنے غازیوں کی عیادت کی
    • جنوبی کوریا کا انچیون ایئرپورٹ دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار
    • ربیع الاول کا آغاز، عید میلاد النبی ﷺ 26 اگست کو منائی جائے گی
    • ایرانی وزیر خارجہ: امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا
    • لبنانی وزیراعظم کا اسرائیلی انخلا کے لیے ٹائم فریم مقرر کرنے پر زور، حزب اللہ نے معاہدہ مسترد کردیا
    • ٹرمپ : آبنائے ہرمز کو جلد امریکی علاقہ قرار دیں گے
    • مشرقی انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ
    • سویڈن کی سفیر نے پاکستان کا 79واں یومِ آزادی منایا
    • جاپان میں ریکارڈ بارشوں سے ہزاروں مسافر ناریٹا ایئرپورٹ پر پھنس گئے، 8 افراد ہلاک
    • پاکستان ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے اہم بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کی کوششوں میں شامل
    • کورین طلبہ نے پاکستان کے یومِ آزادی کی خوشی میں ’دل دل پاکستان‘ گا کر جشن منایا۔
    • پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے ریکارڈ 1.57 ٹریلین روپے پٹرولیم لیوی حا سل کی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    جوڈیشل اصلاحات (1)

    By Daily Khabrainجنوری 31, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لیفٹیننٹ جنرل(ر)اشرف سلیم
    گزشتہ کالموں میں امن و امان کے ایک ستون یعنی پولیس میں ضروری اصلاحات کا ذکر تھا اور اب ہم آتے ہیں امن و امان اور انصاف کے دوسرے مگر سب سے اہم ستون کی طرف اور وہ ہے جوڈیشری یا عدلیہ جو کہ کسی بھی ملک کا پارلیمنٹ یا مقننہ کے بعد سب سے اہم ادارہ ہوتا ہے۔ عدلیہ کی اہمیت دوسری جنگ عظیم میں برطانوی وزیراعظم چرچل کے اس فقرے سے واضح ہو جاتی ہے جب اس نے ملک میں ہر چیز کی جرمنوں یا ہٹلر کے ہاتھوں تباہی پر لوگوں کی تشویش سن کر کہا تھا کہ“ کیا ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں؟ اور اگر وہ انصاف کی فراہمی میں آزادی سے اکٹو active ہیں تو برطانیہ کو کوئی مائی کا لال شکست نہیں دے سکتا”۔ گویا ملک کا فعال اور جلدی انصاف فراہم کرنے والا ادارہ عدلیہ اگر آزادی اور عوام کی توقعات کے مطابق انصاف فراہم کر رہا ہو تو ملک ہر خطرے سے محفوظ ہے مگر پاکستان میں جس طرح دوسرے ادارے قریب المرگ ہیں اسی طرح عدلیہ بھی انصاف کی جلد فراہمی میں اتنی ہی نا کام ہے۔کہاوت ہے کہ“انصاف کو ملتوی کرنا انصاف نہ دینے کے مترادف ہے“ یعنی justice delayed is justice denied.۔
    عام تاثر یہی ہے کہ پاکستان میں عدلیہ میں انصاف حاصل کرنے کے لئے بہت رقم کے ساتھ ساتھ بہت سا اثر و رسوخ درکار ہوتا ہے۔ اور غریب آدمی انصاف کی تلاش میں سب کچھ لٹا کر بھی بے وقت کی موت مر جاتا ہے۔ ہمارے عدالتی نظام میں انصاف یا جسٹس کی بجائے رول آف لاء کی بات ہوتی ہے۔ اس نظام میں وکیل کی وکالت اور دونوں اطراف کا اثرورسوخ مقدمے کو حتمی انجام تک پہنچاتا ہے نہ کہ سچ کی بنیاد پر فیصلہ ہو۔عدالتوں میں تاریخوں پر تاریخوں کا ایک لمبا سلسلہ چلتا ہے اور انصاف کے طلبگار خوار ہوجاتے ہیں۔ عدلیہ کی خرابی کی ذمہ دار بھی خود عدلیہ ہے اور اس کو ٹھیک بھی خود عدلیہ ہی کرے گی مگر تب جب عدلیہ کو عوام کی تکلیف کا احساس ہو اور عدلیہ اپنے اور وکلا حضرات کے مفادات سے نکل سکے۔ اگر یہ کام مقننہ یا پارلیمنٹ کرے یا اس سلسلے میں کوئی قانون پاس کر دے تو عدلیہ اتنی حساس ہے اس سلسلے میں کہ وہ یہ قانون کئی وجوہات دے کر اس کو عدلیہ کی آزادی میں مداخلت قرار دے دے اور قانون کو منسوخ کر وا دے۔ اس لئے بہتر ہے کہ عدلیہ اس سلسلے میں خود اصلاحات کا پیکیج لے کر آئے۔
    عدلیہ میں بنیادی اینٹری entry اور ٹریننگ training اور پروموشن promotion کا سسٹم سب کچھ ہائر جوڈیشری higher judiciary کے حوالے کیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی سیاسی یا حکومتی دخل اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ بنیادی انٹری کا کم از کم تعلیمی معیار ایل ایل بی ہو اور عمر کی حد تیس سال رکھی جائے۔ بنیادی انٹری کے لئے عدلیہ کی زیر نگرانی اینٹری ٹیسٹ اور انٹرویو ہو جو پبلک سروس کمشن کی طرز پر ایک بورڈ کرے جسے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کریں اور اس بورڈ کو سپریم کورٹ کے ایک جج ہیڈ کریں اور اس بورڈ میں ہر ہائی کورٹ سے ایک ایک جج شامل ہو۔ تمام ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی سلیکشن پورے پاکستان میں یہ بورڈ کرے اور تمام صوبوں کے لئے سلیکشن کا معیار ایک ہی مقرر کیا جائے مگر ہر صوبے سے اس کی بنیادی ضرورت کے مطابق سلیکشن کی جائے۔ عدلیہ میں سلیکشن یا انٹری پوائنٹ ایک ہی ہو اور کسی قسم کی لیٹر ل اینٹری قطعی طور پر ختم کی جائے۔
    سلیکشن کے بعد عدلیہ میں داخل ہونے والے لوئر جوڈیشری کے جج صاحبان کی بنیادی ٹریننگ کم از کم ایک سال کرائی جائے جس کے لئے ملک میں دو جوڈیشل اکیڈمیز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس بنیادی ٹریننگ کے بعد بھی جج صاحبان کی پانچ سے سات سال سروس کے دوران ایک بارہ ہفتے کا کورس ہو جو کہ انہی اکیڈمیز میں چلایا جائے اور ہر جج کے لئے یہ کورس لازم ہو اس میں جج صاحبان کو ایک دوسرے سے نہ صرف مل بیٹھنے کا موقعہ ملے گا بلکہ ایک دوسرے کے تجربات سے بھی واقفیت ملے گی اور زیادہ سے زیادہ کیس سٹڈیز case studies کا موقع فراہم ہوگا۔ اسی طرح پندرہ سے بیس سال کی سروس کے دوران پانچ سے سات ہفتے کا ایک جوڈیشل کورس بنایا جائے جو جج صاحبان کو ہائر جوڈیشری کی کارکردگی سے آگاہی فراہم کرے اور ماک mock کیسز cases کے ذریعے ان کی فیصلہ کرنے اور لکھنے کی صلاحیت بڑھائی جائے۔
    ہر جج لوئر جوڈیشری میں کم از کم بیس سال کے تجربہ، کارکردگی اور کردار کی بنیاد پر ہائر جوڈیشری یا ہائی کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو سکے گا اور سپریم کورٹ کا ایک بورڈ چیف جسٹس کی سربراہی میں ان تمام جج صاحبان کی اہلیت کو ان کے ریکارڈ اور انٹرویو کی بنیاد پر ہائی کورٹس کے جج کے طور پر تقرری منظور کرے گا جس کے بعد یہ جج صاحبان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں -اسی طرح ایک بورڈ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ہائی کورٹس میں کم از کم پانچ سے دس سال خدمات سر انجام دے چکنے والے جج صاحبان کا انتخاب ان کی ہائی کورٹ کے جج کے طور پر خدمات کو دیکھتے ہوئے ان کا انٹرویو کرے گا اور ان کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر منتخب کرکے نئے عہدہ پر فائز کرے-
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سطح پر جج صاحبان کی کارکردگی performance، کردار integrity اور قابلیت competence کو ریکارڈ کیا جائے اور ان کو اگلی سطح پر ان کی پروموشن کے لئے معیار بنایا جائے۔ اس طرح ایک نہایت تربیت یافتہ، قابل اور بہترین کردار کی عدلیہ وجود میں آئے گی جو کسی قسم کے سیاسی یا سماجی دباؤ سے آزاد ہو گی اور اس میں نہ ہی کسی قسم کا وکلا کا دخل ہوگا جو وکلا جج بننا چاہیں وہ شروع سے اس سٹریم stream میں شامل ہوں اور اس کی تربیت لیں، کارکردگی اور کردار کا مظاہرہ کریں اور مختلف کورٹس میں بہترین خدمات انجام دیں۔
    عدلیہ میں مقدمات کی بھر مار ہے اور پینڈینسی pendency بہت زیادہ ہے جو ہزاروں اور لاکھوں کیسز کی صورت میں نظر آتی ہے جس کی ایک بڑی وجہ کیس کی تحقیق میں تاخیر اور تحقیق کا غیر معیاری بھی ہونا ہو سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ ایسے کیسوں کے لئے عدلیہ کے ماتحت تحقیقات کا ایک علیحدہ ادارہ بنایا جائے جو ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں کیسز کو دوبارہ یا نامکمل تحقیق کو مکملْ کرنے کے لئے عدالت اس ڈیپارٹمینٹ کو ریفر refer کرے اور وقت کی حد مقرر کر کے اس تحقیق کو جلد مکمل کرا کے کیس کو نپٹایا جا سکے۔ اسی طرح ہر نوعیت کے کیس کو مکمل کرنے کے لئے ایک مناسب مدت مقرر کرے۔ کوئی بھی کیس کتنا بھی پیچیدہ ہو ایک سال سے زیادہ لٹکا نہ رہے۔ چھوٹے کیسوں کے لئے تو چار سے آٹھ ہفتے سے زیادہ وقت نہ لگے۔جیلوں میں قیدی کئی کئی سال تک اپنی اپیلوں کی تاریخ کا انتظار کرتے ہیں۔ جن کو چند دنوں یا ہفتوں میں نمٹایا جائے۔
    (کالم نگار ہلال ملٹری امتیازاورسابق ہائی کمشنر ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.