Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری سعودی عرب کے نامزد سفیر رجع نامی البدغامی اور فرانس کے نامزد سفیر جین نویل سے اسناد وصول کررہے ہیں۔
    • یورپی کمشنر کی غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کی پاکستانی کوششوں کی تعریف
    • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مستقل نہیں رہے گی: بلاول بھٹو
    • چکی محلہ ٹیکسلا ،نوجوان ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق
    • چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر سید مرتضی حسن اندرابی ،پی اے آر سی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر میاں امیر محمد ،ہلال امتیاز کے اعزاز میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں ۔
    • راولپنڈی،5 افرادگرفتار، چرس، شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • ہندو برادری کا مذہبی تہوار نوراتری جوش و خروش سے جاری
    • پی اے آر سی کیجانب سے بانی چیئرمین کے اعزاز میں تعزیتی اجلاس
    • حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہل خانہکا تشکیل کردہ کمیٹی پر اعتماد کا اظہار
    • جنڈ اٹک پولیس کی کارروائی منشیات فروشی میں ملوث 03 ملزمان گرفتار
    • تحصیل میں محکمہ مال کے انتظامی ڈھانچے اور پٹواریوں کی دستیابی بارے سوالات
    • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے نئی منظوری درکار نہیں، نجکاری ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی میں جواب جمع کرادیا
    • امریکی کسان کا 3 ہزار 156 پانڈ وزنی پمپکن اگانے کا عالمی ریکارڈ بننے کا امکان
    • انڈونیشین پائلٹ کی شہریت کے باعث اسرائیل نے ایتھوپین ائیرلائنزکے طیارے کو واپس بھیج دیا
    • اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال کا چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ گروپ فوٹو۔
    • دنیا سے جوڑیں احسن اقبال نے 100 ارب ڈالر برآمدات کا عملی راستہ پیش کر دیا
    • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن کے طور پر نافذ کی: اعظم ندیر تارڑ
    • اے آئی ماڈلز خود کی نقل بنا کر انٹرنیٹ پر تباہی پھیلانے کے قریب پہنچ گئے، انتھروپک کی وارننگ
    • وارث خان پولیس کی کارروائی،قتل،اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب ملزم گرفتار
    • پنشن اور مراعات نہ دینے کیخلاف سابق جج جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری کی درخواست خارج
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام ضروری

    By Daily Khabrainجنوری 31, 2022
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    ڈاکٹر جام سجاد حسین
    اپنے بچوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کا حصول سبھی والدین کا خواب ہوا کرتا ہے، اس خواب کی تکمیل میں صحیح اور معیاری ادارے کا انتخاب ہمیشہ سے انتہائی کٹھن مرحلہ رہا ہے، عمومی طور پر والدین اعلیٰ تعلیم کے اداروں سے ناواقف ہوتے ہیں جس کے سبب ان کے بچے معیاری زیور ِ تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔پاکستان میں چیدہ چیدہ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں،ان میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن اور پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام دین نمایاں ہیں، پروفیسر نظام کو پاکستان میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے جانا جاتا ہے، پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین نے دو عشرے اقوام ِ متحدہ میں خدمات سرانجام دیں۔ اگرچہ وہ اقوامِ متحدہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے مگر ان کے سینے میں وطن کی محبت انہیں پاکستان واپس لے آئی۔
    حکومت نے آتے ہی انہیں ضلع گجرات میں یونیورسٹی قائم کرنے کا ٹاسک سونپ دیا، یوں انہوں نے چند سالوں کی قلیل مدت میں ایک قومی ادارہ جسے یونیورسٹی آف گجرات کے نام سے جانا جاتا ہے، قائم کردی جو اب نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ حکومت پنجاب نے پروفیسر صاحب کی لگن، جذبے اور صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سیالکوٹ میں خواتین کے لئے بھی یونیورسٹی قائم کرنے کا ٹاسک سونپ دیا، یوں انہوں نے گورنمنٹ کالج برائے خواتین کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین سیالکوٹ قائم کردی۔ اِن دونوں پروجیکٹس کی کامیابی کا سہرا پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین کے سر سجتا ہے، جنہوں نے انتہائی قلیل عرصہ میں دو طاقتور قومی ادارے اپنے پاؤں پر کھڑے کردیے۔ اسی اثنا میں اٹھارویں ترمیم منظور ہوگئی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہوگئے،اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت پنجاب کی جانب سے انہیں پنجاب ہائر ایجوکیشن کیشن کا چیئرمین تعینات کردیا گیا۔پروفیسر ڈاکٹر نظام دین نے چار سالوں پر محیط قلیل عرصہ میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو انتہائی طاقتور ادارہ بنا دیا جس نے نہ صرف پنجاب بھر کی جامعات کو اعلیٰ تعلیم پر گائیڈ لائنز فراہم کیں بلکہ انہیں سہولتیں اور فنڈز دے کر مفید معاونت فراہم کی۔
    اب پروفیسر محمد نظام دین نے لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک نئے ادارے خلدونیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ اپلائیڈ سائنسز (کِٹاس) کالج کی بنیاد رکھی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ آف گورنرز کِٹاس کالج پروفیسر محمد نظام دین نے کہا کہ یہ کالج نظام ٹرسٹ کے زیر انتظام عمل میں لایاگیا ہے جو مستقبل میں لاہور کی تاریخ میں بنا کسی مالی منافع کے معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے سنگ ِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ادارہ طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین اور حوصلہ افزا ماحول فراہم کرے گا جہاں طلبہ و طالبات نظریاتی تعلیم کے ساتھ لیب میں عملی تجربات سے گزریں گے او ر فراغت میں غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لے سکیں گے، ابتدائی مرحلے میں چھ ڈگری پروگرامز شروع کیے گئے ہیں جن میں بی ایس کمپیوٹرسائنسز، بی ایس انگلش، بی ایس اپلائیڈ سائیکالوجی، بیچلر بزنس ایڈمنسٹریشن، ڈاکٹر آف فارمیسی (ڈی۔فارم)اور ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی(ڈی پی ٹی)شامل ہیں، سہولیات کے متعلق بتایا کہ کالج میں ائیر کینڈیشنڈ لیب، لائبریری اور دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کی تعمیر و ترقی اور پیشہ ورانہ تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
    پروفیسر نظام ایک ہمہ جہت شخصیت یہی وجہ ہے انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے معیاری ادارے قائم کیے اور بیورکریسی کو منظم انداز میں قائل کیا کہ پاکستان کو اعلیٰ تعلیم کی اشد ضرورت ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام دین معاشرے میں ٹرینڈ سیٹ کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں،پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے ان کی خدمات قابل ِ تعریف ہیں، جنہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ اس کالج میں بلاشبہ طلبہ و طالبات کو تعلیمی تجربات سے گزرنے، معاشرتی مسائل حل کرنے، انہیں پیشہ ورانہ امور سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تکنیکی مہارتوں سے لیس ہونے کا تجربہ حاصل ہوگا، اس تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات نہ صرف کاروباری دماغ رکھنے والے پروفیشنل ہونگے بلکہ ترقی کی دوڑ میں شامل ہوکر وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کررہے ہونگے۔پروفیسر نظام دین چونکہ بذاتِ خود ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لئے ادارے بنانا ان کی پہچان بن گیا ہے۔
    (کالم نگاراسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
    میں شعبہئ صحافت کے استاد ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.