Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • قومی کرکٹر سعود شکیل کا سینئرز سے ذمہ داری دکھانے کا مطالبہ
    • فیلڈ مارشل سے سوڈان کے وزیر داخلہ کی ملاقات، انسداد دہشت گردی پر بات چیت
    • اسرائیل میں حکومت سازی کی سرگرمیاں جاری، عرب لسٹ کا گاڈی آئزنکوٹ کی مشروط حمایت کا عندیہ
    • لاہور میں وادی سندھ کی تاریخ پر 15ویں عالمی تھاپ کانفرنس کا آغاز
    • فلم ’بیورلی ہلز‘ کی مشہور اداکارہ 50 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں
    • بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے، دفتر خارجہ
    • ’13 لاکھ روپے کا ایک سیرپ‘، جناح اسپتال میں جینیاتی مریضوں کو دوا کی مفت فراہمی
    • الیکشن کمیشن ،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ بدلنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    • بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی سندھ کے ہمراہ یونیورسٹی آف لاڑکانو کا افتتاح کر دیا
    • ڈبلن سے اٹلی جانے والے مسافر طیارے کو بم سے اڑانے کی دھمکی،فرانس کی جانب موڑدیا گیا
    • امریکی فوجی اڈے پر تربیتی واقعے کے دوران امریکی اہلکار ہلاک
    • آئی جی پنجاب عبدالکریم پولیس ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس کی صدارت کے دوران پولیسنگ اور انتظامی امور میں بہتری کیلئے افسران کو ضروری ہدایات دے رہے ہیں۔
    • آئی جی پنجاب کی زیرصدارت پولیس ایگزیکٹوبورڈ کا اجلاس
    • اسلام آباد : طالبات کالج میں تقریب کے سلسلے میں سٹال سجا رہی ہیں
    • لاہور: بچے ریڑھی والے سے شکرقندی خرید رہے ہیں۔
    • اینٹی نارکوٹکس فورس کی کارروائیاں’ 152کلومنشیات برآمد’ 6ملزمان گرفتار
    • باغبانپورہ پولیس کی کارروائیاں’ 10کلومنشیات برآمد’4ملزم گرفتار
    • پولیس نے موٹر سائیکلیں’ گھریلو سامان چوری کرنیوالا ملزم دھر لیا
    • محکمہ ہیلتھ کا بیڑہ غرق لاہور سے نشتر دوائیاں بھجوانے کیلئے پٹرول کے پیسے ختم
    • ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کی ماسکو میں روسی صدر سے ملاقات
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کیلئے خطرہ ہے: سپریم کورٹاسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا، مذکورہ فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ 95 صفحات پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلہ سے اختلاف کیا تھا، سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں فیصلے کا آغاز چیف جسٹس مارشل کے قول سے کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا کام صرف آئین کی تشریح کرنا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کے خلاف ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا، منحرف رکن کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، آئین میں پارٹی ہدایات کے لیے پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے پارٹی ہیڈ کا نہیں، اراکینِ پارلیمنٹ کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اظہارِ رائے کی اس آزادی کا استعمال آرٹیکل 63 اے کی روشنی میں ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔ اکثریتی فیصلے کے مطابق صدارتی ریفرنس کے قابلِ سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہیں، صدارتی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات وکلاء محاذ کیس میں سپریم کورٹ پہلے بھی دے چکی ہے، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پارلیمانی پارٹی میں اعتماد کھو بیٹھے تو اسے عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کے اظہارِ رائے کے حق کو وکلا محاذ کیس میں بھی تحفظ دیا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، جب معاملہ ووٹ ڈالنے کا آئے گا تو پھر صورتحال مختلف ہوگی، فیصلہ ووٹ ڈالتے وقت آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، یہ دلیل دی گئی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے سے پارلیمانی پارٹی میں امریت کو فرغ ملے گا، آمریت کو فروغ ملنے کی دلیل سے ہم متفق نہیں ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ فیصلے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں دیئے گئے حقوق برابر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی نظر میں برابر ہیں، چھوٹی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیئے، ارکان کا منحرف ہونا سیاسی جماعتوں کی سالمیت اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، ارکان کا جماعت سے منحرف ہونا سیاسی پارٹی کے آئینی حقوق کیخلاف ہے، ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔

    By Khabrain Newsاکتوبر 14, 2022
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔
    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا، مذکورہ فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ 95 صفحات پر مشتمل ہے۔
    یاد رہے کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلہ سے اختلاف کیا تھا، سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
    سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں فیصلے کا آغاز چیف جسٹس مارشل کے قول سے کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا کام صرف آئین کی تشریح کرنا ہے۔
    فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کے خلاف ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا، منحرف رکن کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، آئین میں پارٹی ہدایات کے لیے پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے پارٹی ہیڈ کا نہیں، اراکینِ پارلیمنٹ کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اظہارِ رائے کی اس آزادی کا استعمال آرٹیکل 63 اے کی روشنی میں ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔
    اکثریتی فیصلے کے مطابق صدارتی ریفرنس کے قابلِ سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہیں، صدارتی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات وکلاء محاذ کیس میں سپریم کورٹ پہلے بھی دے چکی ہے، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پارلیمانی پارٹی میں اعتماد کھو بیٹھے تو اسے عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔
    فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کے اظہارِ رائے کے حق کو وکلا محاذ کیس میں بھی تحفظ دیا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، جب معاملہ ووٹ ڈالنے کا آئے گا تو پھر صورتحال مختلف ہوگی، فیصلہ ووٹ ڈالتے وقت آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، یہ دلیل دی گئی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے سے پارلیمانی پارٹی میں امریت کو فرغ ملے گا، آمریت کو فروغ ملنے کی دلیل سے ہم متفق نہیں ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔
    فیصلے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں دیئے گئے حقوق برابر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی نظر میں برابر ہیں، چھوٹی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیئے، ارکان کا منحرف ہونا سیاسی جماعتوں کی سالمیت اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، ارکان کا جماعت سے منحرف ہونا سیاسی پارٹی کے آئینی حقوق کیخلاف ہے، ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      فیلڈ مارشل سے سوڈان کے وزیر داخلہ کی ملاقات، انسداد دہشت گردی پر بات چیت

      لاہور میں وادی سندھ کی تاریخ پر 15ویں عالمی تھاپ کانفرنس کا آغاز

      بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے، دفتر خارجہ

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.