Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان، جرمنی کا گرین سٹارٹ اپس اور پائیدار جدت کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر زور
    • اخبار فروش فیڈریشن کے عہدیداران کی اخبار مارکیٹ اسلام آباد سیل کرنیکی مذمت
    • عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس’اہم بنیادی عقیدہ:مولانا عبدالنعیم و دیگر
    • پرامن یورپی شہریوں کیلئے روس کے دروازے بند نہیں ہونگے: ماریہ زخارووا
    • پاکستان 2027ء میں ورلڈ بینک گروپ آئی ایم ایف کے بورڈز آف گورنرز کی سربراہی کریگا، وزارت اقتصادی امور
    • پی آئی اے کی قیادت میں بڑی تبدیلی، نیا سربراہ مل گیا
    • اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک جرمن یونٹی ڈے کے موقع پر خطاب کررہے ہیں۔
    • امریکی شہریوں سے آن لائن مالی فراڈ میں ملوث کال سنٹر پرچھاپہ
    • اسلام آباد:وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی تصویری نمائش میں پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے رہنمائوں کی تصاویر دیکھ رہے ہیں۔
    • ٹرمپ کا ایک بار پھرفوج کے مسلمان میجر کو ہلاک کرنے کا منظرلائیونہ دکھانے کااعلان
    • ملک کے ابتر معاشی حالات غیر یقینی صورتحال 3 سال میں 18 لاکھ 70 ہزار اعلی تعلیم طافتہ افراد پاکستان چھوڑ گے
    • ریاض ائیر پورٹ پر حوثی باغیوں کے حملے میں شہید باجوڑ کا نوجوان سپرد خاک
    • خیبرپختونخوا ہ میں پی ٹی آئی کے لوگ بھی امن کا قیام ،دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں:سردار محمد یوسف
    • وزیراعلیٰ سندھ کی شنگھائی کے میئر سے ملاقات، ہواوے کے تحقیق و ترقی مرکز کا دورہ
    • امریکہ کے سکول میں فائرنگ’3بچے اور ایک استاد ہلاک
    • پیپلز پارٹی کا بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے لیے اہم اجلاس
    • پیشن کٹوتی کے بعد سرکاری ملازمین کی مراعات پر پنجاب حکومت کا ایک اور وار
    • پائیدار ترقی کیلئے اجتماعی ذمہ داری پر مبنی معاشرے کی تشکیل ناگزیر: احسن اقبال
    • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
    • امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کا اسرائیل کی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کیلئے خطرہ ہے: سپریم کورٹاسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا، مذکورہ فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ 95 صفحات پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلہ سے اختلاف کیا تھا، سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں فیصلے کا آغاز چیف جسٹس مارشل کے قول سے کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا کام صرف آئین کی تشریح کرنا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کے خلاف ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا، منحرف رکن کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، آئین میں پارٹی ہدایات کے لیے پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے پارٹی ہیڈ کا نہیں، اراکینِ پارلیمنٹ کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اظہارِ رائے کی اس آزادی کا استعمال آرٹیکل 63 اے کی روشنی میں ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔ اکثریتی فیصلے کے مطابق صدارتی ریفرنس کے قابلِ سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہیں، صدارتی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات وکلاء محاذ کیس میں سپریم کورٹ پہلے بھی دے چکی ہے، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پارلیمانی پارٹی میں اعتماد کھو بیٹھے تو اسے عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کے اظہارِ رائے کے حق کو وکلا محاذ کیس میں بھی تحفظ دیا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، جب معاملہ ووٹ ڈالنے کا آئے گا تو پھر صورتحال مختلف ہوگی، فیصلہ ووٹ ڈالتے وقت آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، یہ دلیل دی گئی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے سے پارلیمانی پارٹی میں امریت کو فرغ ملے گا، آمریت کو فروغ ملنے کی دلیل سے ہم متفق نہیں ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ فیصلے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں دیئے گئے حقوق برابر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی نظر میں برابر ہیں، چھوٹی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیئے، ارکان کا منحرف ہونا سیاسی جماعتوں کی سالمیت اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، ارکان کا جماعت سے منحرف ہونا سیاسی پارٹی کے آئینی حقوق کیخلاف ہے، ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔

    By Khabrain Newsاکتوبر 14, 2022
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔
    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا، مذکورہ فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا۔ یہ فیصلہ 95 صفحات پر مشتمل ہے۔
    یاد رہے کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلہ سے اختلاف کیا تھا، سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
    سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں فیصلے کا آغاز چیف جسٹس مارشل کے قول سے کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا کام صرف آئین کی تشریح کرنا ہے۔
    فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کے خلاف ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا، منحرف رکن کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، آئین میں پارٹی ہدایات کے لیے پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے پارٹی ہیڈ کا نہیں، اراکینِ پارلیمنٹ کو اظہارِ رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اظہارِ رائے کی اس آزادی کا استعمال آرٹیکل 63 اے کی روشنی میں ووٹ ڈالتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔
    اکثریتی فیصلے کے مطابق صدارتی ریفرنس کے قابلِ سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہیں، صدارتی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات وکلاء محاذ کیس میں سپریم کورٹ پہلے بھی دے چکی ہے، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پارلیمانی پارٹی میں اعتماد کھو بیٹھے تو اسے عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رکن اسمبلی کا پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے تباہ کن ہے۔
    فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کے اظہارِ رائے کے حق کو وکلا محاذ کیس میں بھی تحفظ دیا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، جب معاملہ ووٹ ڈالنے کا آئے گا تو پھر صورتحال مختلف ہوگی، فیصلہ ووٹ ڈالتے وقت آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، یہ دلیل دی گئی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے سے پارلیمانی پارٹی میں امریت کو فرغ ملے گا، آمریت کو فروغ ملنے کی دلیل سے ہم متفق نہیں ہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کو شمار کرنا جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔
    فیصلے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں دیئے گئے حقوق برابر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں آئین کی نظر میں برابر ہیں، چھوٹی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیئے، ارکان کا منحرف ہونا سیاسی جماعتوں کی سالمیت اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، ارکان کا جماعت سے منحرف ہونا سیاسی پارٹی کے آئینی حقوق کیخلاف ہے، ارکان کا منحرف ہونا نہ روکا گیا تو سیاسی جماعتوں میں منصفانہ مقابلہ نہیں ہوسکے گا۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات’ داتا دربار کے اطراف کا منظر تبدیل

      حریم فاروق اورفیصل قریشی یونیورسٹی میں ڈانس پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آ گئے

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.