Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بنکاک:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وی 20 کے وزارتی سطح کے اجلاس میں شریک ہیں۔
    • حریم فاروق اورفیصل قریشی یونیورسٹی میں ڈانس پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آ گئے
    • نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
    • افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کیخلاف ٹھوس کارروائی کرے: پاکستان
    • بد امنی سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی گمراہ کن ویڈیوز
    • مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس26اکتوبر کو ہوگا
    • معاذ صداقت کو پاکستانی ٹیم کی شرٹ پہنے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی محمد رضوان
    • زرعی شعبے کی بہتری اور مشکلات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت سردار سلیم حیدر
    • راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ،سی پی او نے کرکٹ سٹیڈیم کی ڈیرٹیز چیک کیں ۔
    • رالپنڈی :تھانہ بنی پولیس کی کارروائی ،زیر حراست گینگ سے10مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد۔
    • فتح جنگ :پی پی پی کسان ونگ کے صدر آصف حیات خان گورنر پنجاب سردار سلیم خان سے ملاقات کررہے ہیں ۔
    • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت
    • ریاض:مشوانی قبائل کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں دی گئی تقریب کے موقع پر لی گئی گروپ تصویر۔
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں ،9افراد گرفتار،پتنگیں،ڈوریں شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمدکرلیا
    • برٹش ہائی کمشنرکا ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات کے ہمراہ موضع مرید کا دورہ
    • کی کاوشیں جاری اسلام آباد کو ترقی یافتہ، سرسبز دارالحکومت بنانے کیلئے CDA
    • ریاض:مشوانی قومی تڑون قبیلہ کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں عشائیہ
    • پنجاب کالج جنڈ میں پرنسپل ملک اقبال کی زیرِ صدارت سیرت النبی ۖ کانفرنس
    • پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سر عام غیر قانونی ایل پی جی گیس بھرنے کا سلسلہ جاری
    • کرکٹ سیریز کیلئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے گئے: مشتاق سکھیرا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے مؤکل کو فائدہ ہو، چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    By Khabrain Newsجون 6, 2024
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے فاضل جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ غیر منتخب افراد کو نیب قانون سے باہر رکھنا امتیازی سلوک ہے۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیولنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

    وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔
    عدالتی معاون وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں، نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں، نیب آرڈیننس 1999 میں مشرف حکومت میں آیا تھا۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ صرف منتخب پبلک آفس ہولڈر پر نیب کا اختیار کیوں رکھا گیا، غیر منتخب پر کیوں نیب کا اختیار نہیں رکھا گیا؟ غیر منتخب افراد کو نیب قانون سے باہر رکھنا امتیازی سلوک ہے۔

    چیف جسٹس کا وکیل بانی پی ٹی آئی سے کہا کیا آپ سیاسی احتساب چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں جیسا قانون پہلے تھا وہی برقرار رہے۔

    وکیل بانی پی ٹی آئی خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نیب ترامیم مخصوص افراد کے فائدے کیلئے تھیں، کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ منتخب نمائندے کے پاس پبلک فنڈز تقسیم کرنے کا اختیار کہاں ہوتا ہے کوئی ایک مثال بتائیں، کرپشن منتخب نمائندے نہیں بلکہ پرنسپل اکاونٹنگ افسر کرتا ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کوئی منتخب نمائندہ یا وزیر متعلقہ سیکرٹری کی سمری کے بغیر کوئی منظوری نہیں دیتا، کیا کوئی سیکرٹری سمری میں لکھ دے کہ یہ چیز رولز کے خلاف ہے تو وزیر منظوری دے سکتا ہے؟ اعلی حکام میں انکار کرنے کی جرات ہونی چاہیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ وہی جماعت جس نے سپریم کورٹ میں قانون چیلنج کیا اسی نے ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کیا، شعیب شاہین نے قانون چیلنج کیا، حامد خان صاحب ان کے وکیل تھے، ہائیکورٹ نے تو نوٹس بھی جاری کرلیا تھا، ہائیکورٹ جانا پھر سپریم کورٹ آنا، کیا اپنی مرضی سے خریداری کرنا مقصد تھا، نیب ترامیم اتنی خطرناک تھیں تو انہیں معطل کردیتے، 53 سماعتوں تک ترامیم زندہ رہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا، پارلیمنٹ کے قانون کو معطل کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جب صاحب نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا انہوں نے سپریم کورٹ کو کیوں نہیں بتایا، تنقید کرنا بڑا آسان ہوتا ہے، ٹی وی پر بیٹھ کر شعیب شاہین باتیں کرتے ہیں ہمارے سامنے پیش ہوکر جواب دیں، باہر جاکر کیمرے پر گالیاں دیتے ہیں، گالیاں دینا تو آسان کام ہے، اگر میں نے غلطی کی تو مجھ پر انگلی اٹھائیں، باہر جاکر بڑے شیر بنتے ہیں، سامنے آکر کوئی بات نہیں کرتا، اصولی مؤقف میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے خواجہ حارث سے کہا کہ ایک اثاثوں کے کیس میں ہی سپریم کورٹ نے مانیٹرنگ جج لگایا، پھر اس کیس میں آپ ملزم کے وکیل اور میں جج تھا ، سپریم کورٹ کے جج مانیٹرنگ جج تھے، اس کیس میں ایک پاور فل جے آئی ٹی بھی بنی جس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے طاقتور ادارے بھی تھے، بتائیں اس کیس کا کیا بنا، اس کیس میں آپ وکیل تھے؟

    خواجہ حارث نے جواب دیا کہ طاقتور اداروں کی جے آئی ٹی میں شمولیت کے باوجود بھی کچھ ثابت نا ہوسکا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سے کہا کہ اگر آپ اتنے ہی ایماندار تھے تو ایمنسٹی کیوں دی، برطانیہ کی مثال دی جاتی ہے بتائیں وہاں کیوں ایمنسٹی نہیں دی جاتی، ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے مؤکل کو فائدہ ہو، خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے، کیس 53 سماعتوں میں سنا گیا۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب قانون سے آج آپ کے فریق بھی متاثرہ ہیں، اگر نیب کا پرانا قانون ہوتا تو آج آپ کے مؤکل بھی شدید مشکل میں ہوتے۔

    خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میرے موکل کو فائدہ ہوا اس میں کوئی دو رائے نہیں پھر بھی ہم سپریم کورٹ آئے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر پی سی او نہ ہوتا تو شاید تب پورا نیب قوانین اڑا دیا جاتا، وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک لسٹ جمع کرائی جس میں بتایا گیا تھا کہ 2019 میں اس وقت کی حکومت نے نیب ترامیم کی تھیں، مخدوم علی خان کے مطابق وہ ترمیم کریں تو غلط اگر پی ٹی آئی کرے تو ٹھیک، آپ کو ہمیں دکھانا ہوگا ترامیم میں غیر آئینی کیا تھا؟

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئین سے بتانا ہوگا ترامیم سے حقوق کیسے متاثر ہوئے؟ بلکہ ترامیم کے ذریعے تو نیب سے ڈریکونین اختیارات واپس لیے گئے، آپ کیوں چاہتے ہیں ہر معاملے پر کارروائی نیب ہی کرے ، اس پر اتنا اعتبار کیوں؟ پارلیمنٹ نے اثاثوں کی سیکشن کو صرف اسٹرکچر کیا ہے، وہ چاہتی تو اسے حذف بھی کر دیتی۔

    خواجہ حارث نے جواب دیا کہ نیب قانون اور اسے چلانے والوں میں فرق ہے، مجھے نیب پر اعتماد نہیں، میں تو قانون کی بات کررہا ہوں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے کے ذریعے پارلیمنٹ کے قانون میں ترمیم کی، ایک شخص آیا اس نے آئین کو روند کر نیب قانون بنادیا، میری خواہش ہے اگر مارشل لاء نا لگتا تو نیب قانون ہی نا ہوتا، اراکین پارلیمنٹ نیب سے جان چھڑانا چاہتے تھے، کیا ہم پارلیمنٹ کے قانون کو عدالتی فیصلے کے ذریعے ترمیم کرسکتے ہیں، کل پارلیمنٹ دوبارہ قانون بنالی تو کیا ہوگا؟

    کیا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست تھا؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو مانیٹر نہیں کرسکتی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عوام سپریم ہے اس لئے پارلیمنٹ سپریم ہے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی امین ہے۔ چیف جسٹس نے تو پھر کیا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست تھا؟

    خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا سیاسی فیصلہ تھا جو درست نہیں۔

    خواجہ حارث نے دلائل مکمل کیے جس پر عدالت نے سماعت میں مختصر وقفہ کردیا۔ وقفے کے بانی پی ٹی آئی خود دلائل دیں گے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      حریم فاروق اورفیصل قریشی یونیورسٹی میں ڈانس پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آ گئے

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.