کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی اس آگ کی تباہی کے دوسرے دن ہی سوشل میڈیا پر مختلف کیپشنز کے ساتھ ایک تصاویر وائرل ہونا شروع ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس خوفناک آگ سے آبادی کے درمیان موجود ایک گھر بالکل محفوظ رہا ہے۔
مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے اپنے عقائد سے اس واقعے کو جوڑتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ الگ الگ کیپشن دیے تھے اور ساتھ ہی ’’الجزیرہ‘‘ جیسے معتبر ذرائع ابلاغ کا نام بھی استعمال کیا تھا۔

تاہم اب فیکٹ چیک کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائرل تصویر جسے لاس اینجلس واقعے سے جوڑا جارہا ہے دراصل دو سال قبل اگست میں ہوائی میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد کی ہے۔
فیکٹ چیک کے دوران وائرل تصویر کے گوگل ریورس امیج سرچ کے مطابق سرخ چھت اور سفید دیواروں والا یہ مکان ہوائی میں لاہینا کی مشہور ہائی اسٹریٹ میں خوفناک آتشزدگی سے بچ جانے والا مکان تھا، جس کے اردگرد تباہ شدہ مکانوں کی راکھ دکھائی دے رہی ہے۔
اس واقعے کی خبر سامنے آنے پر بھی لوگوں نے سوال کیا تھا کہ آیا تصویر حقیقی ہے یا اسے ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا ہے
دوسری جانب لاس اینجلس واقعے میں ایک اور گھر آتش زدگی سے محفوظ رہا ہے لیکن وہ گھر اس وائرل تصویر سے مختلف ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس گھر کے آتشزدگی سے محفوظ رہنے کی وجہ اس آگ اور زلزلہ پروف ہونا ہے، اس گھر کی بناوٹ میں استعمال ہونے والا میٹریل یہاں تک کہ چھت کو بھی آگ سے محفوظ رکھنے کےلیے بنایا گیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ تین منزلہ گھر مکمل طور پر محفوظ رہا۔


