چین میں ایک ڈرائیور نے فوڈ ڈیلیوری کے دوران ایک خاتون کی زندگی بچا لی۔
چینی صوبے سیچوان کے شہر Leshan میں یہ واقعہ پیش آیا اور ڈیلیوری بوائے زینگ کھانا پہنچانے کے لیے گیا تو اس نے ایک تکیے پر خون سے ایمرجنسی سروسز کا نمبر لکھا دیکھا۔
یہ تکیہ ایک رہائشی عمارت کے قریب سڑک پر موجود تھا جس پر 110 اور 625 نمبر لکھے تھے۔
یونیورسٹی میں زیر تعلیم اس نوجوان کو لگا کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہے تو اس نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔
پولیس نے ایک قریبی ہوٹل میں کام کرنے والے ملازم سے مدد لی جس نے تکیے کے ڈیزائن کو شناخت کرلیا اور پھر ایک عمارت کی 25 ویں منزل میں پھنسی خاتون تک پہنچ گئی۔
پہلے تو پولیس اہلکاروں کو لگا کہ یہ کوئی پرتشدد جرم یا اغوا کا معاملہ ہے۔
مگر فلیٹ کے اندر جانے کے بعد دریافت ہوا کہ وہاں رہنے والی خاتون زاؤ حادثاتی طور پر گزشتہ 30 گھنٹے سے اپنے بیڈ روم میں پھنسی ہوئی تھی۔
خاتون نے بتایا کہ وہ گھر کی صفائی کر رہی تھی جب تیز ہوا چلنے سے بیڈ روم کا دروازہ بند ہوگیا اور تالا ٹوٹ گیا جس کے بعد وہ وہاں پھنس گئی۔
اس کا موبائل فون فلیٹ کے دوسرے کمرے میں تھا تو اس سے مدد طلب کرنا بھی ممکن نہ رہا۔
وہ 30 گھنٹے تک اس کمرے میں کھانے یا پانی کے بغیر پھنسی رہی اور شور کرکے پڑوسیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششیں بھی ناکام رہیں۔
خوراک، پانی اور ٹوائلٹ تک رسائی نہ ہونے سے خاتون کو شدید ذہنی صدمے اور خوف کا سامنا ہوا۔
پریشان خاتون نے پھر اپنی انگلی کو دانتوں سے کاٹا اور خون سے تکیے پر ایمرجنسی سروسز کے نمبر لکھ کر باہر پھینک دیا۔
خاتون کے مطابق جب پولیس نے دروازہ توڑا تو میں پرجوش ہوگئی کہ اب میں دوبارہ اپنے خاندان کو دیکھ سکوں گی۔
خاتون نے شکر گزاری کا اظہار کرتے ہوئے زینک کو ایک ہزار یوآن دینے کی کوشش بھی کی مگر اس نے لینے سے انکار کردیا۔
زینگ کے مطابق ‘میں نے کچھ خاص نہیں کیا، ہر فرد ہی ان حالات میں پولیس سے رابطہ کرتا’۔






































