ڈیووس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعدہ اعلان کردیا۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی جہاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت دیگر ممالک نے معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد چارٹر مکمل طور پر نافذالعمل ہوگیا۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کا مشکور ہوں، بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا انتہائی اہم کردار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیےکوشاں ہیں اور امن کوششوں کی کامیابی کے لیے پُرامید ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن بورڈ میں بہت سے ممالک شامل ہونا چاہتے ہیں، اقوام متحدہ سمیت دیگرممالک کےساتھ کام جاری رکھیں گے، غزہ میں جنگ ختم ہونے والی ہے،حماس کو ہتھیارڈالنے ہوں گے ورنہ اس کا خاتمہ ہوجائےگا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ملک ہیں، میں نے دونوں کے درمیان جنگ رکوائی جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی جنگیں رکوائیں جس کے بعد دنیامزیدمحفوظ ہوگئی ہے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں، ایران بات کرنا چاہتا ہے اور ہم بات کریں گے۔
پاکستان سمیت کون سے ممالک غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہوچکے ہیں؟
عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک پاکستان سمیت 19 ممالک شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیے، انڈونیشیا، بحرین، مصر، اردن، قازقستان، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بورڈ میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔
اس کے علاوہ ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، ہنگری، کوسوو، مراکش اور ویتنام نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ دنوں یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے روسی صدر پیوٹن نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت پر صدر ٹرمپ سے اظہار تشکر کیا اورکہا کہ وہ ایک ارب ڈالر دینےکو تیار ہیں، ہم نےعالمی استحکام کی ہرکوشش میں تعاون کیا ہے۔





































