امریکی میڈیا کی تازہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر ہونے والے ایرانی حملوں کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ کے بیانات حقیقت کے برعکس تھے، جبکہ اصل نقصان کہیں زیادہ سنگین بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں میں ایک ڈرون سفارتخانے کی عمارت سے ٹکرا گیا جس سے عمارت میں بڑا شگاف پڑا، اور کچھ ہی لمحوں بعد دوسرا ڈرون بھی اسی مقام پر آ لگا۔ ان حملوں کے نتیجے میں عمارت کے محفوظ ترین حصے بھی متاثر ہوئے جبکہ آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے میں کئی گھنٹے لگے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی عمارت کے کم از کم تین فلورز کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ حساس ادارے سی آئی اے کے اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مزید رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی حملے کے بعد مزید ڈرونز بھی داغے گئے جن میں سے کچھ کو میزائل دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایک ڈرون قریبی علاقے میں واقع ایک اعلیٰ امریکی سفارتکار کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنانے کے قریب پہنچ گیا تھا، جو سفارتخانے سے چند سو فٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔
سابق سی آئی اے اہلکار برنارڈ ہڈسن نے اس حوالے سے کہا کہ ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ریاض میں موجود اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی حملہ کیا تھا، جہاں ایواکس اور ری فیولنگ طیارے نشانہ بنے، جبکہ امریکی دفاعی نظام ان حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ کارروائیوں میں امریکی لڑاکا طیاروں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں اے-10 اور ایف-15 شامل ہیں، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایف-35 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ کویت میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے





































