اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے، حالانکہ ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے اور نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ان کی آمد کی مخالفت کی ہے۔
ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے اسرائیل کا مؤقف پیش کریں گے اور تنقید سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ظہران ممدانی پر الزام عائد کیا کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والی سیاست کر رہے ہیں، جبکہ آئی سی سی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو بھی مسترد کر دیا۔
دوسری جانب، نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی حمایت کرتے ہیں، لیکن نیویارک شہر کے پاس انہیں گرفتار کرنے کا قانونی اختیار نہیں۔ ان کے مطابق یہ اختیار امریکی وفاقی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے 2024 میں غزہ جنگ کے تناظر میں نیتن یاہو کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا، جبکہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ امریکہ بھی آئی سی سی کا رکن نہیں ہے، جس کے باعث اس وارنٹ کے نفاذ سے متعلق قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔

