امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی حملوں میں عارضی وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی امید پر مثبت ردعمل دیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 5.9 فیصد گر کر 91 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 5.4 فیصد کمی کے بعد تقریباً 84 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ یہ ایک ہفتے کے دوران قیمتوں کی نمایاں ترین گراوٹ میں سے ایک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے خدشات اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں۔ تاہم حملوں میں وقفے نے سپلائی سے متعلق خدشات وقتی طور پر کم کر دیے، جس سے عالمی منڈیوں میں اطمینان پیدا ہوا۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں فوری کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی یا آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں پر نقل و حمل متاثر ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے۔

