ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو کے ساتھ اس کی ذمہ داریوں اور وعدوں سے متصادم نہیں ہے۔ ترک حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ تین ملکی دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے متصادم ہوسکتا ہے۔
7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترکیہ کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ ترک حکام کے مطابق یہ معاہدہ نیٹو کی جگہ لینے یا اس کا متبادل بننے کے بجائے ترکیہ کی پہلے سے موجود بین الاقوامی دفاعی ذمہ داریوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور باہمی سلامتی کو مضبوط بنانے کا عزم شامل ہے، تاہم اس میں کسی ممکنہ حملے کی صورت میں مخصوص فوجی کارروائیوں کی تفصیلی ضمانتیں بیان نہیں کی گئیں۔ تینوں ممالک نے اس معاہدے کو خطے کے استحکام اور مشترکہ دفاع کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
ترکیہ اس معاہدے کے باوجود نیٹو کا رکن ہے اور نیٹو کے اجتماعی دفاع کے عزم کو برقرار رکھنے کی تصدیق کر چکا ہے۔ جولائی 2026 میں انقرہ میں ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس میں اتحادی ممالک نے آرٹیکل 5 کے تحت اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
