رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 12 امریکی یہودی شہریوں کو اسرائیل سے ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ درجنوں دیگر افراد کے ڈیجیٹل انٹری پرمٹس منسوخ کیے گئے۔ یہ افراد فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں سے فلسطینی خاندانوں کے تحفظ کے لیے سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2026 میں امریکی یہودی کارکن سوفی ڈرک مین فیلڈسٹین کو ایک واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے یہودی آبادکاروں کی بھیڑوں کو فلسطینی خاندان کی زمین سے دور کرنے کی کوشش کی۔ وہ پانچ راتیں جیل میں رہیں، جس کے بعد انہیں اسرائیل سے ڈی پورٹ کرکے مصر کی سرحد تک پہنچایا گیا۔
یہ کارکن ایسے گروہوں سے وابستہ ہیں جو مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں میں نگرانی، انسانی حقوق کی دستاویز بندی اور حفاظتی موجودگی فراہم کرتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی 2026 کی تحقیق میں ایسے غیر ملکی اور اسرائیلی رضاکاروں سے بات کی جو فلسطینی برادریوں کو آبادکاروں کے تشدد کے دوران تحفظ فراہم کرنے اور واقعات کی نگرانی کے لیے وہاں موجود رہتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مغربی کنارے میں فلسطینی برادریوں کو آبادکاروں کے تشدد، زمین پر قبضے اور نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ تنظیم نے متعدد واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ بھی لیا اور رضاکاروں کے بیانات شامل کیے۔
