تازہ اور معتبر ذرائع کے مطابق امریکی سینیٹ نے روس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں کا بل منظور کر لیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 100 فیصد ٹیرف فوری طور پر عائد نہیں ہوا بلکہ بل امریکی صدر کو مخصوص بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے۔
روس کے خلاف امریکی سینیٹ کا بڑا اقدام
امریکی سینیٹ نے جمعہ 7 اگست 2026 کو روس کے خلاف سخت پابندیوں پر مشتمل “Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026” بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔ بل کے حق میں 86 سینیٹرز نے ووٹ دیا جبکہ 11 نے مخالفت کی۔ یہ قانون مرحوم سینیٹر لنڈسی گراہم کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، جنہوں نے اس قانون سازی کے لیے طویل عرصے تک کام کیا تھا۔
بل کا بنیادی مقصد روس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کی مالی صلاحیت پر دباؤ بڑھانا ہے۔ قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک سے آنے والی درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ یہ اختیار بالخصوص روسی خام تیل اور گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چین اور بھارت ان ممالک میں شامل ہیں جو روسی تیل کے بڑے خریدار ہیں، اس لیے نئے قانون کے ممکنہ نفاذ سے ان کی امریکی درآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں کہ ان ممالک پر 100 فیصد ٹیرف خودکار طور پر نافذ ہو گیا ہے؛ صدر کو اسے نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
بل میں روسی حکام، ارب پتی شخصیات، روسی مالیاتی اداروں، سرکاری کمپنیوں اور روس کی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے غیر ملکی عناصر کے خلاف بھی پرائمری اور سیکنڈری پابندیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ روس کی تیل برآمدات میں استعمال ہونے والے نام نہاد “شیڈو فلیٹ” کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس قانون میں ایران کے توانائی اور ہتھیاروں کے شعبے سے متعلق بعض پابندیوں کو برقرار رکھنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
اب یہ بل امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) میں جائے گا، جہاں منظوری کے بعد اسے قانون بننے کے لیے مزید آئینی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
اہم نکتہ: موجودہ معلومات کے مطابق یہ اقدام ابھی سینیٹ کی منظوری تک محدود ہے؛ 100 فیصد ٹیرف کا نفاذ لازمی یا فوری نہیں بلکہ صدارتی اختیار کے طور پر بل میں شامل ہے۔
