ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کو قابو کرنے یا ان کے حملوں سے محفوظ رہنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حسین محبی کے مطابق سعودی عرب جتنا زیادہ حملہ کرے گا، اسے اتنے ہی زیادہ جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے لیے یمن اور انصار اللہ کو قابو میں رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ 13 اگست کو حوثیوں نے جازان میں سعودی آرامکو کی ریفائنری پر دو ڈرونز سے حملے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اس وقت سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی تھی۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب حوثیوں نے بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اطراف بھی حملے تیز کیے۔ حالیہ ایک حملے میں ایک یمنی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس میں چھ افراد ہلاک اور کم از کم نو زخمی ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف یمن کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے بلکہ بحیرۂ احمر، باب المندب اور عالمی تجارتی راستوں کے لیے بھی خطرات بڑھا سکتی ہے۔ حالیہ حملوں کے باعث اہم بندرگاہی اور بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو علاقائی تنازع کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ تاہم ایران نے حوثیوں کو براہِ راست فوجی ہدایات دینے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ حوثی اپنے فیصلوں کو یمن میں جاری حالات اور سعودی کارروائیوں کے ردعمل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

