پاکستانی فٹبالر مریم محمود کو پاکستان کی نمائندگی کرنے پر ریکسیم ایف سی ویمنز کے آنر بورڈ پر جگہ دے دی گئی، جس کے بعد وہ کلب کے آنر بورڈ پر نام درج کروانے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔
کلب کے آنر بورڈ پر پاکستان مینز ٹیم کے کھلاڑی عمر نواز کا نام بھی پہلے سے موجود ہے، تاہم مریم محمود کی شمولیت نے پاکستانی خواتین فٹبال کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔
اس منفرد اعزاز پر مریم محمود نے خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنر بورڈ پر اپنا نام دیکھنا ان کے لیے انتہائی جذباتی اور یادگار لمحہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی عالمی سطح پر نمائندگی کا سفر ان کے لیے ناقابلِ یقین رہا اور ریکسیم ایف سی کے لیجنڈز کے ساتھ اپنا نام دیکھنا کسی خواب کی تعبیر جیسا محسوس ہوتا ہے۔
مریم محمود نے بتایا کہ پاکستان کے لیے ڈیبیو کرنا اور شائقین کی بھرپور حمایت حاصل کرنا ان کے کیریئر کے یادگار ترین لمحات میں شامل ہے۔ انہوں نے آئیوری کوسٹ میں پاکستان کی جانب سے تین میچز کھیلنے کو بھی اپنے فٹبال سفر کا ایک خاص تجربہ قرار دیا۔
مریم کے مطابق ان کے لیے یہ اعزاز صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان میں خواتین فٹبال کے لیے بھی اہم سنگِ میل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان نسل، بالخصوص لڑکیوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دینا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچپن میں ان کے پاس کوئی خاتون رول ماڈل موجود نہیں تھا، تاہم اب وہ خود نئی نسل کی لڑکیوں کے لیے ایسی مثال بننا چاہتی ہیں جس سے انہیں اپنے خواب پورے کرنے کی حوصلہ افزائی ملے۔
مریم محمود کی یہ کامیابی پاکستانی خواتین فٹبال کے بڑھتے ہوئے عالمی سفر کی بھی عکاسی کرتی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ان کی مثال مزید پاکستانی لڑکیوں کو فٹبال سمیت مختلف کھیلوں میں اپنا مستقبل بنانے کی ترغیب دے گی۔

