اسلام آباد (حبہ عباسی)غربت کے خاتمے کے نام پر اربوں روپے تقسیم کیے جا رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا مستحقین تک پوری رقم واقعی پہنچ رہی ہے؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے اجلاس میں بی آئی ایس پی ادائیگیوں کے نظام پر ایسے سوالات اٹھے جنہوں نے نگرانی اور شفافیت کے موجودہ طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی۔کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نےنشاندہی کی کہ اگر کسی خاتون کے لیے 10 ہزار روپے جاری ہوں لیکن اسے صرف 8 ہزار روپے ملیں تو کمی کا تعین کیسے ہوگا اور ذمہ دار کون ہوگا؟ اس سوال نے ادائیگیوں کے نظام میں موجود ممکنہ خامیوں کو اجاگر کر دیا۔ بی آئی ایس پی حکام نے دعویٰ کیا کہ مستحقین کو رقم جمع ہونے اور نکلوانے کے موبائل پیغامات موصول ہوں گے اور ہر ٹرانزیکشن کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا، تاہم کمیٹی نے شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کی اہمیت پر زور دیا۔اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ تقریباً 90 لاکھ ڈیجیٹل والٹس کھولے جا چکے ہیں اور مستحق خواتین کو اے ٹی ایم کے استعمال کی تربیت دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مقصد انسانی مداخلت کم کرنا بتایا گیا، مگر سوال یہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والی اور محدود ڈیجیٹل مہارت رکھنے والی خواتین اس نظام سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکیں گی۔چیئرمین کمیٹی غلام علی ٹالپور نے اجلاس کے انتظامی معاملات پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ارکان کو سینکڑوں صفحات پر مشتمل دستاویزات اجلاس سے محض ایک روز قبل فراہم کی جاتی ہیں، جس سے مؤثر نگرانی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔کمیٹی میں بچت کے پائلٹ پروگرام پر بھی سوالات اٹھے۔ ارکان کا مؤقف تھا کہ اگر انکم سپورٹ پروگرام کا مقصد مستحق خاندانوں کی مالی مشکلات کم کرنا ہے تو دو سال تک رقم محفوظ رکھنے کی شرط غربت کے شکار خاندانوں کے لیے عملی طور پر مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ یوں اجلاس میں صرف ادائیگیوں کی شفافیت ہی نہیں بلکہ فلاحی پروگراموں کی مجموعی حکمت عملی بھی سوالات کی زد میں آ گئی۔
بی آئی ایس پی
