اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) نٹ شیل گروپ کے زیر اہتمام لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ کا 9واں ایڈیشن جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا دی نیکسٹ موو” کے عنوان سے منعقدہ ایونٹ میں وفاقی وزرا، عالمی اداروں کے نمائندگان اور پاکستان کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔چھ مختلف نشستوں میں عالمی اداروں کے رہنماں اور صنعت سے وابستہ اعلی عہدیداران نے شرکت کی، جس میں جغرافیائی سیاست اور معیشت سے لے کر کاروبار، ٹیکنالوجی اور مسابقتی منظرنامے، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل تبدیلی سے لے کر سرمایہ اور مالیات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے محمد اظفر احسن نے کہا کہ ہم یہ کانفرنس پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے کرتے ہیں۔ پاکستان اس وقت اہم پوزیشن میں ہے۔ ہر کوئی پاکستان کی بات کررہا ہے۔ دنیا جاننا چاہتی ہے کہ پاکستان کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ ہمیں اگلے 25 سال کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔سمٹ کے افتتاحی سیشن سے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی ترقی کا سفر جاری ہیاور پاکستان پائیدار معاشی ترقی کے ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری آ ئی ہے۔ ترسیلات زر میں مستحکم اضافے اور آئی ٹی برآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکانٹ کو فائدہ ہوا۔ پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالرز کے بانڈ کا اجرا سنگ میل ہے، چار سال بعد عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے بانڈ کینتائج مطلوبہ حجم سے دوگنا رہے۔ پاکستان امداد پر مبنی تعلقات سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی واضح سمت متعین کرلی گئی ہے۔ برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد کی شرح پر ری فنانس فراہم کیا جا رہا ہے۔پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہونے کے باوجود برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد ری فنانس مل رہا ہیوزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تاریخ کے بلند ترین زرمبادلہ ذخائر حاصل کیے ، مقررہ مدت کے بعد بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ رسائی حاصل کی اوردو ریٹنگ ایجنسیوں سے دوسری مرتبہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی۔لیکن یہ کامیابیاں کافی نہیں،ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا چیلنج ہے۔ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر موثر معاشی پالیسی بنانا ممکن نہیں۔ معاشی استحکام کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مشاورت ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر اورنجکاری کے لیے وزیراعظم کے مشیر محمد علی نے ہمیں معاشی ترقی کے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہوگا۔2050 تک پاکستان کی آبادی تقریبا 39 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ہمارا بڑا چیلنج افرادی قوت اور انفرااسٹرکچر کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنا اور ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والا ملک بننا ہوگا۔ہماری خواہش ہے کہ بڑے پیمانے پر پیداواری کاروباری ادارے ہوں جو عالمی اداروں کے ساتھ مقابلہ کریں۔ نوجوانوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہوگا جو انہیں پاکستان کے معاشی مستقبل میں مثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے سپر ٹیکس ختم کیا ۔ شرح سود اور مہنگائی میں کمی آئی ہے جبکہ ملکی کرنسی بھی مستحکم ہوئی ہے۔۔جب تک سرمایہ کاری نہیں آئے گی نہ روزگار آئے گا نہ ہی ملک میں بہتری آئے گی ۔پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے پر تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اکٹھے ہوئے۔نجکاری کی رقم کا ایک حصہ حکومت کو ملاجبکہ بڑا حصہ پی آئی اے کی بحالی کے لیے ادارے میں لگایا گیا۔ مستقبل میں بھی یہی اصول اپنانا ہوگا۔پاکستان میں حقیقی معاشی ترقی کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ باوقار زندگی وہ ہے جس میں لوگوں کو تعلیم، مناسب طبی سہولتوں، صاف اور صاف پینے کے پانی اور بنیادی انفرااسٹرکچر تک رسائی حاصل ہو۔ صرف غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کو ترقی کے مواقع حاصل نہ ہوں بلکہ عام شہری بھی عزت و وقار اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی وبائیں اور نئی جنگیں ہمیشہ سامنے آتی رہیں گی، لیکن اہمیت اور فوری نوعیت کے حامل مسائل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ توانائی کی لاگت، ٹیکسوں اور مسابقتی صلاحیت جیسے معاملات پر فوری نوعیت کے چیلنجز کے ساتھ ساتھ توجہ دینا ضروری ہے۔سابق نگران وزیراعظم سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ حکومت کے لیے مقررہ ترقیاتی اہداف حاصل کرنا ناگزیر ہے۔مستحکم اور پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔پاکستان کے 78 سالہ سفر میں حقیقی معاشی اور سماجی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ترقی کا اصل معیار یہ ہے کہ لوگ اپنے مقامی حالات کے مطابق باوقار زندگی گزار سکیں۔میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ملکی ترقی تباہ ہو رہی ہے، اصل مسئلہ اچھی گورننس کا نہ ہونا ہے۔پاکستان کی مستقبل کی حکمت عملی پر غور و خوض کے موضوع کو مرکز بناتے ہوئے سمٹ میں معاشی پالیسی، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کے حوالے سے ملک کو درپیش اہم موڑ کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کا راستہ متعین کرنے کے لیے مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین کے نقطہ نظر کو یکجا کیا گیا۔ مختلف شعبوں پر مشتمل یہ جامع نقطہ نظر دن بھر ہونے والی نشستوں کے لیے بنیاد فراہم کرتا رہا۔سمٹ کے دوران دنیا کے مختلف اداروں کے اعلی عہدیداران اور صنعتوں سے وابستہ ممتاز شخصیات نے چھ مختلف سیشنز میں شرکت کی۔ ان نشستوں میں جغرافیائی سیاست اور جیو اکنامکس سے لے کر کاروبار، ٹیکنالوجی اور نئے مسابقتی منظرنامے، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی، سرمایہ اور مالیات، جبکہ پاکستان کا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے، جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔تمام ممتاز مقررین کو سید بابر علی: ایک صد سالہ خراجِ تحسین کے عنوان سے کتاب بھی پیش کی گئی، جس کے مصنف نٹشیل گروپ کے بانی و چیئرمین اور پاکستان کے سابق وزیر برائے سرمایہ کاری محمد اظفر احسن ہیں۔سمٹ کے مختلف سیشنز میں محمد اظفر احسن بانی و چیئرمین، نٹشیل گروپ، اور پاکستان کے سابق وزیر برائے سرمایہ کاری,لوسیا ریئل مارٹن گلوبل ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اے سی سی اے,ڈاکٹر فیصل ہاشم سینئر ڈائریکٹر پبلک افیئرز، سسٹین ایبلٹی اینڈ کمیونیکیشن، پاکستان و افغانستان ریجن، کوکا کولا کمپنی عامر ابراہیم ,چیف ایگزیکٹو آفیسر، جاز ورلڈ، سائمن اینڈریوز ریجنل ڈائریکٹر، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن،ڈاکٹر سیموئل رزک پاکستان میں ریزیڈنٹ نمائندہ، یو این ڈی پی،اینڈریو بیلی مینیجنگ ڈائریکٹر، بی اے ایس ایف پاکستان،ماہین رحمان چیف ایگزیکٹو آفیسر، انفرازامین پاکستان، فہد حسین اینکر اور کالم نگار شامل تھے۔سمٹ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے مستقبل کی کامیابی کے لیے دستیاب مواقع کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا اور معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور نجی و عالمی شراکت داریوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔
