اٹک ( بیورو رپو رٹ) پی ٹی آئی کے ممبر صوبائی اسمبلی سید اعجاز حسین بخاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت اور اٹک انتظامیہ پاکستان تحریک انصا ف کی لانگ مارچ کی ممکنہ کال کے پیش نظر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے اور اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنا دیا گیا ہے، جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گی، عوام اپنا فیصلہ کر چکے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہو ں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو معاشی تنگدستی کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے، ابھی تک نہ کوئی میٹنگ ہوئی، نہ جلسہ ہوا اور نہ ہی کوئی جلوس نکالا گیا کہ حکومت کارکنوں یا رہنماؤں کو گرفتار کرے ، تاہم پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے گھروں میں داخل ہو کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے، غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے موجودہ حکمران اربوں روپے ذاتی خوشیوں اور شاہانہ ا خر ا جا ت پر خرچ کر رہے ہیں، جبکہ ملک معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، بیرون ملک دورے بھی ایسے وقت میں جاری ہیں جب عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے ، اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے، حکومت کو چاہیے کہ راستے اور کاروبار بند کرنے کے بجائے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے ، چھوٹے تاجروں اور صنعتکاروں کو سہولیات فراہم کرے ، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرے اور ٹیکس نظام کو عام آدمی اور کاروباری طبقے کے لیے آسان بنائے، سید اعجاز حسین بخاری نے کہا کہ اس وقت غریب آدمی کا جینا محال ہو چکا ہے ، اس لیے حکومت کو سیاسی کشیدگی اور رکاوٹوں کے بجائے عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو روزگار، کاروبار اور بہتر معاشی مواقع میسر ہوں اور ریاستی وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں۔
