امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر عائد موجودہ امریکی پابندیوں کو 2031 تک برقرار رکھنے اور توسیع دینے والے قانون پر دستخط کردیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے 18 ستمبر 2026 کو H.R. 5334، "Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026” کو قانون کی شکل دی۔
اس قانون کے تحت 1996 کا Iran Sanctions Act مزید پانچ سال کے لیے توسیع پاتے ہوئے 2026 کے اختتام سے بڑھ کر 2031 کے اختتام تک نافذ رہے گا۔ قانون میں ایران سے متعلق پابندیوں کے ساتھ روس کے خلاف بھی نئی پابندیوں اور تجارتی اقدامات کی شقیں شامل ہیں۔
ایران سے متعلق شقیں بنیادی طور پر اس امریکی قانونی اختیار کو برقرار رکھتی ہیں جس کے ذریعے ایران کے توانائی اور ہتھیاروں کے شعبوں پر اقتصادی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق اس قانون میں ایران کی مخصوص کمپنیوں یا افراد کے خلاف نئی انفرادی پابندیوں کی فہرست شامل نہیں کی گئی بلکہ موجودہ قانونی اختیار کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔
قانون کا بڑا حصہ روس سے متعلق ہے، جس میں روسی حکام، بینکوں، توانائی کے شعبے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ قانون امریکی صدر کو روسی توانائی خریدنے والے بعض بڑے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔
امریکی کانگریس نے یہ قانون پہلے منظور کیا تھا۔ سینیٹ نے اسے 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے جبکہ ایوان نمائندگان نے 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظور کیا، جس کے بعد یہ صدر کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچا۔
یوں ٹرمپ کے دستخط کے بعد ایران سے متعلق 1996 کے امریکی پابندیوں کے قانون کی قانونی مدت 2031 تک بڑھ گئی ہے۔

