اسلام آباد (عادل عباسی) پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی لانگ مارچ ایک ہفتے کے لیے مخر کیے جانے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات کے اخراجات میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر تعینات 1550 کنٹینرز کے مالکان کو یومیہ 4 کروڑ 65 لاکھ روپے کرایہ ادا کیا جائے گا، جبکہ احتجاج کی تاریخ آگے بڑھنے کے باعث مجموعی سکیورٹی اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے ابتدائی طور پر احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے تقریبا 82 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا تھا۔ اس رقم میں کنٹینرز کے کرائے، پنجاب اور سندھ سے آنے والے اضافی پولیس اہلکاروں کی رہائش، کھانے پینے اور دیگر انتظامات شامل تھے۔ احتجاج کی تاریخ 27 ستمبر سے آگے بڑھنے کے بعد سکیورٹی انتظامات کو مزید کئی روز برقرار رکھنا پڑے گا، جس کے باعث اخراجات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 1550 کنٹینرز مختلف مقامات پر سڑکوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس علاقوں کے اطراف رکھے گئے ہیں۔ ان میں تقریبا 350 کنٹینرز ریڈ زون کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے، جبکہ بڑی تعداد میں کنٹینرز اسلام آباد کے داخلی راستوں، اہم شاہراہوں اور دیگر مقامات پر رکاوٹیں قائم کرنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کنٹینر مالکان کی جانب سے مختلف سائز کے کنٹینرز کے لیے کرائے کی شرح پر نظرثانی کے بعد فی کنٹینر یومیہ 30 ہزار روپے کا مطالبہ کیا گیا، جس کے حساب سے 1550 کنٹینرز کا ایک دن کا کرایہ 4 کروڑ 65 لاکھ روپے بنتا ہے۔ ایک ہفتے کا کرایہ تقریبا 32 کروڑ 55 لاکھ جبکہ دو ہفتوں کا کرایہ 65 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔اس صورتحال میں وفاقی دارالحکومت میں ایک دلچسپ صورتحال بھی پیدا ہوگئی ہے کہ احتجاجی قافلہ اور لانگ مارچ مقررہ تاریخ پر اسلام آباد نہ پہنچ سکا، تاہم احتجاج سے نمٹنے کے لیے پہلے سے رکھے گئے کنٹینرز تاحال مختلف شاہراہوں اور اہم مقامات پر موجود ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ابھی یہ فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ کنٹینرز فوری طور پر واپس کیے جائیں گے یا انہیں آئندہ احتجاج کی نئی تاریخ تک اپنی تحویل میں رکھا جائے گا۔ دوسری جانب احتجاج کے لیے اضافی پولیس نفری کی تعیناتی اور رہائش و خوراک کے انتظامات بھی سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ بن رہے ہیں۔ پولیس نے پنجاب سے 16 ہزار جبکہ سندھ سے 2 ہزار اہلکار طلب کیے تھے۔ سندھ پولیس کی نفری اسلام آباد پہنچ چکی ہے جبکہ پنجاب سے طلب کی گئی نفری کی آمد سے متعلق بھی انتظامات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق اضافی پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت کے لیے 70 کوسٹرز، 30 ڈبل کیبن گاڑیوں اور دیگر بسوں کا بھی انتظام کیا گیا۔ صرف 70 کوسٹرز کا یومیہ کرایہ 10 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ 30 ڈبل کیبن گاڑیوں کا یومیہ کرایہ 3 لاکھ روپے بنتا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس افسران کی رہائش کے لیے مختلف ہوٹلوں میں کمرے بھی بک کیے گئے ہیں، جن کا یومیہ خرچ بھی لاکھوں روپے میں ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مختلف رینکس کے افسران کے لیے اسلام آباد کے 13 ہوٹلوں میں 175 کمرے بک کیے گئے، جن میں انسپکٹر سے ایس پی رینک تک کے افسران کے لیے 11 ہوٹلوں میں 157 کمرے شامل ہیں۔ ان کمروں کا یومیہ کرایہ تقریبا 7 لاکھ 54 ہزار 500 روپے بتایا گیا ہے۔اضافی نفری کے کھانے کے اخراجات بھی مجموعی رقم میں شامل ہوں گے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پنجاب سے آنے والے 16 ہزار اہلکاروں کے لیے تین وقت کے کھانے کا یومیہ تخمینہ تقریبا 96 لاکھ روپے لگایا گیا تھا، جبکہ ایک ہفتے کے لیے یہ رقم 6 کروڑ 72 لاکھ روپے بنتی ہے۔دوسری طرف کنٹینرز کے معاملے نے ٹرانسپورٹرز کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔ آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین جعفری کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب میں پولیس نے تقریبا 2700 گاڑیوں کو ان کے عملے سمیت تحویل میں لیا، جبکہ بعض گاڑیوں میں ادویات، خوراک اور کیمیکل سمیت دیگر سامان بھی موجود تھا۔ ان کے مطابق متعدد ڈرائیوروں اور عملے کو پولیس تھانوں میں رکھا گیا اور گاڑیوں کی چابیاں، دستاویزات اور موبائل فون بھی تحویل میں لیے گئے۔یوں پی ٹی آئی کے احتجاج کی تاریخ ایک ہفتے کے لیے آگے بڑھنے سے اسلام آباد میں پہلے سے کیے گئے سکیورٹی انتظامات کو برقرار رکھنے کی ضرورت نے سرکاری اخراجات میں مزید اضافے کا راستہ کھول دیا ہے۔ ابتدائی طور پر 82 کروڑ روپے کے قریب تخمینہ لگائے گئے اخراجات اب احتجاج کے مخر ہونے کے باعث ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ کنٹینرز کا کرایہ ہی روزانہ کروڑوں روپے میں ادا کرنا ہوگا۔پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف احتجاجی لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم پارٹی نے بعد ازاں مارچ کو 4 اکتوبر تک مخر کرنے کا اعلان کیا۔
بریکنگ نیوز
- بسنت2027،پتنگ ‘ ڈور سازی کے مینوفیکچرنگ لائسنس کا اجرا ء شروع
- ہائیکورٹ ‘منی لانڈرنگ کی ایف آئی آرز خارج کرنیکی درخواستیں مسترد
- آئینی عدالت نے پہلے فوت ہونیوالے بھائی کے بچوں کی چچا کی جائیدا پر وراثت کا حق مسترد کردیا
- بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا، بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی
- ٹریفک سگنلز پر پیشہ ور گداگروں کے ڈیرے، شہریوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ
- چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی ایشاء سے محروم
- بنگلادیشی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان کا پاکستانی پرچم کے احترام کا خوبصورت منظر وائرل
- اسلام آبدا میں پی ٹی آئی دھرنے میں لڑنے کیلئے نوجوان بھرتی کرنے والا شخص گرفتار ، تین ساتھی فرار
- ملتان بینچ میں 19 روز کے دوران 6 ہزار 18 مقدمات کے فیصلے کئے گئے
- باڈی کیمروں کی مدد سے بہت سی شکایات کا بروقت ازالہ ممکن ہو سکے گا:خواجہ عمران نذیر
- ٹیکس دہندگان پر ایف آئی آرز درج کرنے کیخلاف آئینی درخواستیں خارج
- معاشی استحکام کیلئے امن اور سیاسی استحکام اولین شرط ہے: احسن اقبال
- خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح سپیکر کی اجازت لازمی
- پنجاب میں اے آئی کریکولم اور ٹریننگ انیشیٹو کا آغاز کردیا گیا
- وزیراعظم شہبازشریف سے چیئرمین پاکستان بزنس فورم سردار ظہور اقبال کی ملاقات
- نارووال:وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نارووال میڈیکل کالج کی نئی بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
- چین’ امریکہ کاسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق
- لمپی سکن کے خطرے پر سندھ میں ہائی الرٹ
- جمہوریہ کانگو میں فوجی طیارہ گر کر تباہ 2 اعلی افسران سمیت 14 افراد ہلاک
- یونان میں رہائشی عمارت دھماکے سے زمین بوس ہوگئی 6 امریکی و برطانوی سیاح ہلاک
