چکوال (بیورو رپورٹ) معاشرے میں عدم برداشت، گھریلو ناچاقی، معاشی پریشانیوں اور بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی کے رجحان میں اضافے پر شہری و سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف مسائل کا بروقت اور مثبت انداز میں حل نہ ہونے کے باعث بعض افراد شدید مایوسی اور بے بسی کا شکارہو جاتے ہیں، جس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق گھریلو جھگڑے، میاں بیوی کے درمیان ناچاقی، مالی مشکلات، بے روزگاری، قرضوں کا دباؤ، رشتوں میں تنازعات اور معاشرتی رویوں میں بڑھتی ہوئی سختی ایسے عوامل ہیں جو بعض افراد کی مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں میں جذباتی دباؤ اور مسائل کا اظہار نہ کر پانا بھی ایک اہم تشویش کے طور پر سامنے آتا ہے۔سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکشی کے واقعات کو صرف ایک فرد کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے پسِ پردہ موجود گھریلو، معاشی اور سماجی عوامل کو سمجھنا ضروری ہے۔ خاندان کے افراد کو چاہیے کہ کسی شخص کے رویے میں اچانک نمایاں تبدیلی، شدید مایوسی، تنہائی اختیار کرنے یا زندگی سے بے زاری کے اظہار کو معمولی نہ سمجھیں اور اسے تنقید یا ڈانٹ کے بجائے توجہ، ہمدردی اور مناسب مدد فراہم کریں۔شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گھریلو تنازعات کے حل، نوجوانوں کی رہنمائی اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے آگاہی پروگراموں کو فروغ دیا جائے، جبکہ تعلیمی اداروں اور متعلقہ سرکاری و سماجی اداروں میں مشاورت اور معاونت کی سہولیات بہتر بنائی جائیں تاکہ مشکلات کا شکار افراد کو بروقت مدد مل سکے۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی شخص میں خودکشی کے خیالات یا اس حوالے سے واضح اشارے نظر آئیں تو اسے اکیلا نہ چھوڑا جائے اور فوری طور پر قابلِ اعتماد اہلِ خانہ، ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے رابطہ کیا جائے۔
