اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ، صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ آپشن پر جاری بحث نے ایک بار پھر آئینی صورتحال کو مرکز نگاہ بنا دیا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر تحریک انصاف لانگ مارچ کی کال ملتوی کردیتی ہے تو کیا اس کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے؟ آئینی ماہرین کے مطابق محض لانگ مارچ کی کال دینا، اسے ملتوی کرنا یا کسی سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کا اعلان کرنا اپنے طور پر گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی بنیاد نہیں بنتا، تاہم اگر صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال ایسی سطح تک پہنچ جائے جسے آئین میں بیان کردہ شرائط پورا کرنے والی صورتحال قرار دیا جائے تو وفاق آئینی راستہ اختیار کرسکتا ہے۔موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے 29 ستمبر کو کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا امکان لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں بلکہ سکیورٹی صورتحال کی بنیاد پر زیر غور آسکتا ہے، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ کسی بھی اقدام کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی 28 ستمبر کو صوبے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں لانگ مارچ مخر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ گورنر نے یہ بھی کہا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو صدر وزیراعظم کے مشورے پر آئینی طریقہ کار کے تحت گورنر راج نافذ کرسکتے ہیں۔ آئینی طور پر ایمرجنسی اور گورنر راج دو الگ اقدامات ہیں اور دونوں کے لیے الگ آئینی راستہ موجود ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ایسی سنگین ہنگامی صورتحال میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے جس میں جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی شامل ہو جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا تقاضا بھی موجود ہے، جبکہ اگر صدر اپنی جانب سے اقدام کریں تو اعلان کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے مقررہ مدت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں وفاقی حکومت کو صوبے کے انتظامی معاملات میں اضافی اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں۔ آئین کے مطابق ایمرجنسی کے دوران وفاقی پارلیمان کو بعض صوبائی معاملات پر قانون سازی کا اختیار مل سکتا ہے اور وفاق صوبائی حکومت کو انتظامی امور سے متعلق ہدایات بھی دے سکتا ہے۔ بعض حالات میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے بعض اختیارات اپنے پاس لینے یا گورنر کو وفاق کی جانب سے ان اختیارات کے استعمال کی ہدایت دینے کے اقدامات بھی کرسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں گورنر راج کا معاملہ آرٹیکل 234 سے متعلق ہے۔ آئین کے تحت اگر صدر مملکت کسی صوبے کے گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچیں کہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو صدر مخصوص آئینی اقدام کرسکتے ہیں۔ آئین میں اس مقصد کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے اور ایسا اقدام محض سیاسی اختلاف یا احتجاج کی کال کی بنیاد پر خودکار طور پر نافذ نہیں ہوجاتا۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر لانگ مارچ ملتوی ہوجاتا ہے تو صرف اس فیصلے کی وجہ سے گورنر راج یا ایمرجنسی کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اگر لانگ مارچ ملتوی ہونے کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو وفاق کے لیے کسی غیر معمولی آئینی اقدام کی ضرورت کا سوال مزید مختلف انداز میں دیکھا جائے گا۔ تاہم اگر وفاق یہ مقف اختیار کرے کہ صوبے میں دہشت گردی، مسلح تشدد، بدامنی یا انتظامی بحران صوبائی حکومت کی استعداد سے باہر ہوچکا ہے تو وہ ان حالات کو آئینی دفعات کے تناظر میں دیکھ سکتا ہے۔موجودہ سیاسی بحث میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کا ذکر بھی اسی لیے اہم سمجھا جارہا ہے کہ سرکاری بیانات میں لانگ مارچ اور سکیورٹی صورتحال کو الگ الگ موضوعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اقدام ہوا تو اس کی بنیاد سکیورٹی صورتحال ہوگی، جبکہ وزیر قانون نے بھی واضح کیا ہے کہ آئینی طریقہ کار اور تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔دوسری طرف خیبرپختونخوا میں سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ اگر صوبائی حکومت کے خلاف کوئی غیر معمولی آئینی اقدام کیا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہوگی اور کیا موجودہ حالات آئین میں مقررہ معیار پر پورا اترتے ہیں۔ اسی لیے گورنر راج کے معاملے میں محض سیاسی بیانات کے بجائے متعلقہ آئینی شرائط، صوبے کی انتظامی صورتحال، امن و امان کے اعداد و شمار اور صوبائی حکومت کی عملی کارکردگی اہم عوامل ہوں گے۔خیبرپختونخوا کے گورنر کی جانب سے گورنر راج کا حوالہ ایسے وقت میں آیا ہے جب صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کا مسئلہ پہلے ہی سیاسی بحث کا بڑا موضوع ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبے کو امن کی بحالی، بہتر حکمرانی اور تمام سیاسی فریقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے لانگ مارچ مخر کرنے کی اپیل بھی کی۔ دریں اثنا 24 ستمبر کو سامنے آنے والے ایک تجزیے میں بھی خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو سیاسی دبا کی حکمت عملی کے طور پر زیر بحث لایا گیا تھا، تاہم اسی رپورٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کی تردید اور صوبائی سطح پر اس کے قانونی جواز سے متعلق مختلف مقف بھی بیان کیے گئے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی سطح پر اس معاملے پر اختلاف موجود ہے اور گورنر راج کو اس وقت ایک زیر بحث آئینی آپشن کے طور پر دیکھا جارہا ہے، نہ کہ ایک نافذ شدہ اقدام کے طورقانونی اعتبار سے ایک اور اہم فرق یہ ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ اور گورنر راج ایک ہی چیز نہیں۔ ایمرجنسی کا تعلق ایسی غیر معمولی صورتحال سے ہے جو ملک یا کسی حصے کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا صوبائی حکومت کے قابو سے باہر اندرونی بدامنی کے باعث خطرے میں ڈال دے، جبکہ گورنر راج کا بنیادی آئینی تصور صوبے میں آئینی مشینری کے ناکام ہونے سے متعلق ہے۔ دونوں صورتوں میں وفاقی سطح پر غیر معمولی اختیارات استعمال ہوسکتے ہیں لیکن ان کے آئینی محرکات اور طریقہ کار مختلف ہیں۔ اس لیے اگر تحریک انصاف لانگ مارچ کی کال ملتوی کردیتی ہے تو فوری طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہوجائے گی۔ اصل فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ وفاقی حکومت صوبے کی مجموعی صورتحال کو کس آئینی معیار کے تحت دیکھتی ہے، گورنر کی جانب سے کیا رپورٹ سامنے آتی ہے، امن و امان کی صورتحال کیا ہے اور آئین میں مقررہ تقاضے کس حد تک پورے ہوتے ہیں۔یوں موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ کا ملتوی ہونا سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کا سبب بن سکتا ہے، لیکن گورنر راج یا ایمرجنسی کا سوال صرف لانگ مارچ کے انعقاد یا التوا سے طے نہیں ہوگا۔ اس کا فیصلہ آئین میں موجود مخصوص شرائط اور متعلقہ ریاستی اداروں کے آئینی اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔ فی الحال وفاقی حکومت کے بیانات سے یہ ضرور واضح ہے کہ خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے غیر معمولی آئینی اقدامات کی بحث سیاسی سطح پر موجود ہے، تاہم کسی بھی اقدام کے لیے آئینی طریقہ کار کی پابندی لازمی ہوگی۔ اگر لانگ مارچ ملتوی ہوجائے تو صرف اس بنیاد پر گورنر راج نہیں لگ سکتا؛ اصل سوال صوبے میں آئینی مشینری، امن و امان اور آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کی شرائط کا ہے۔ موجودہ وفاقی بیانات میں بھی سکیورٹی صورتحال کو ممکنہ اقدام کی بنیاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ([از دفتر ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اینڈ کیمونٹی ڈیویلپمنٹ چکوال ہرگاہ خاص کو مطلع کیا جاتا ہے کہ محمد اسلم ولد فتح محمد سکنہ سیتھی ڈاکخانہ نور پور تحصیل کلر کہا رضلع چکوال کا رہائشی ہوں میں نے اپنے بیٹے محمد خاقان اسلم، تاریخ پیدائش مورخہ 21 اگست 2012، بیٹی جویریہ اسلم ، تاریخ پیدائش مورخہ 17 مارچ 2014 ، بیٹے محمد ایان اسلم ، تاریخ پیدائش مورخہ 01 جون 2015 ، بیٹے محمد ریان اسلم ، تاریخ پیدائش مورخہ 11 جون 2018کو پیدائش ہوئی ہے جنکا اندراج پیدائش لاعلمی کی بنا پر متعلقہ دفتر یونین کونسل منارہ میں نہ کرایا جا سکا لیٹ اندراج پیدائش پر کسی قسم کا کوئی اعتراض ہو تو اخبار اشتہار کے10 یوم کے اندر از دفتر عنوان بالا کو بروقت آگاہ کریں
بریکنگ نیوز
- چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
- محکمہ اوقاف پنجاب میں اختیارات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے
- پی ٹی آئی لانگ مارچ پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کو اسلام آباد بلوا کر بھوکا پیاسا چھوڑ دیا گیا
- ڈاکٹر محمد عباس یو ایچ ایس لاہور کے کنٹرولر امتحانات تعینات
- EPA کا انسداد سموگ سے متعلق سال25-26ء کا تقابلی ڈیٹا جاری
- اے این ایف’ مختلف شہروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈائون
- مسلسل غیر حاضری اور غفلت پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر فریاد حسین نے سخت انتظامی
- قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت معطل کردی
- ریلوے حکام نے گریڈ 19کے 2افسران کی تعیناتیاں کر دیں
- زیادتی کیس میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت منظور
- محترمہ رئیسہ عادل پرنسپل انفارمیشن آفیسر کا اے پی این ایس ہاؤس کا دورہ
- خبرکے حوالے رابطہ کیا گیا، لیکن افسران محکمہ نے موقف دینے سے گریز کیا
- لاہور میں برائلر گوشت کی قیمت مستحکم ، سرکاری نرخ476 روپے فی کلو برقرار، انڈے مہنگے
- میٹرو بس میں وارداتیں کرنے والا خواتین کا گروہ گرفتار
- خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا امکان؟ آئینی طریقہ کار سامنے آگیا
- دنیا بھر میں ہر 3 میں سے ایک بچہ نظر کی کمزوری کا شکار :تحقیق
- ایک کروڑ 18 لاکھ روپے کے جعلی چیک کیس کے ملزم کی ضمانت خارج
- چین: پسند کی شادی پر ناراض باپ اچانک شادی ہال پہنچ گیا، بیٹی رو پڑی
- پنجاب ‘ دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی
