واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیارہوں، ادھر امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر بحیرہ احمر میں ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد پراسرار طور پر غائب ہوگیا۔ علاوہ ازیں امریکہ نے غیر ملکی مالیاتی اداروں کو ایران سے لین دین پر پابندیوں کی دھمکی دی ہے جبکہ ایران کی ناکہ بندی کے دوران 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے اور 13 کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ ایران نے ایک بار پھر ہمسایہ ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی سرزمین ایران پر حملوں کیلئے استعمال ہوئی تو جواب دیا جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعہ کا ذمہ دار ایران ہے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران سے براہِ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، یہ بھی کہا کہ برطانیہ کے اڈے سے امریکی بمبار طیارے دھمکی کے باعث واپس بلائے۔دریں اثناء امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر سعودی عرب کے قریب بحیرہ احمر میں ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد اچانک غائب ہو گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر بحیرہ احمر کے اوپر پرواز کے دوران ہنگامی حالت کے اعلان کے کچھ دیر بعد عوامی طور پر دستیاب فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے غائب ہو گیا۔ رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر سِکورسکی ایم ایچ-60 آر سی ہاک نے مشرقی وقت کے مطابق تقریبا شام 5 بج کر 20 منٹ پر سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع شہر ینبع کے قریب ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ہنگامی حالت کا اعلان کیے جانے کے وقت ہیلی کاپٹر تقریبا 475 فٹ کی بلندی پر تھا، اس کے بعد ظاہر ہونے والی اس کی پرواز کی بلندی صفر تک گر گئی، جس کے بعد ہیلی کاپٹر ٹریکنگ سروس سے غائب ہو گیا۔ گزشتہ شام تک امریکی بحریہ نے واقعے کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی تھی اور نہ ہی ہیلی کاپٹر کے عملے یا اس کی حالت سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی تھیں جبکہ ہنگامی حالت کی وجہ بھی فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔سوشل میڈیا پر بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر ممکنہ طور پر حادثے کا شکار ہو گیا ہے، تاہم اس کے گر کر تباہ ہونے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ادھر امریکہ نے غیر ملکی مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ایران یا اس کے بینکاری شعبے کے ساتھ کاروباری لین دین جاری رکھا تو انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ لین دین کرنے والے غیر ملکی بینکوں کو بغیر پیشگی اطلاع کے کسی بھی وقت پابندیوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔قبل ازیںایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج نے مشرقِ وسطی میں 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق کارروائی کا مقصد ان جہازوں کی نقل و حرکت روکنا تھا جو مبینہ طور پر امریکی احکامات کی خلاف ورزی کررہے تھے یا ایران سے متعلق مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔سینٹ کام کے مطابق 130 تجارتی جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے علاوہ امریکی افواج نے ایسے تین جہازوں کو ناکارہ بھی بنایا جو مبینہ طور پر امریکی احکامات پر عمل کرنے سے انکار کررہے تھے۔امریکی فوج کے مطابق گزشتہ 12 ہفتوں کے دوران مجموعی طور پر 13 تجارتی جہازوں کو تباہ کیا گیا، یہ جہاز یا تو امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کررہے تھے یا پھر مبینہ طور پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے اربوں ڈالر مالیت کے خفیہ مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔دوسری جانب ایران نے بحرین سمیت خطے کے دیگر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فوجی اڈے یا فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، بصورت دیگر تہران کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ انتباہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ایران کے مستقل مشن کے دوسرے سیکرٹری علی کریمی مقام نے دیا۔علی کریمی مقام نے بحرین کے نمائندے کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بحرین نے ان حالات اور واقعات کے پس منظر کو نظر انداز کیا ہے جن کے نتیجے میں موجودہ صورتحال پیدا ہوئی۔ایرانی سفارت کار نے بحرین کے اس موقف کو بھی مسترد کیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں متاثرہ فریق ہے۔
ہیلی کاپٹر
