امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول کھو دیا ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہوچکی ہے۔
ایتھنز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس وقت اس راستے سے تقریباً اتنا ہی تیل گزر رہا ہے جتنا تنازع شروع ہونے سے پہلے گزر رہا تھا۔ ان کے بقول اسی وجہ سے ایران آبنائے پر اپنا مکمل کنٹرول کھو چکا ہے۔
روبیو نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سخت امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت ’’مکمل اور شدید تنزلی‘‘ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب ایران پہلے یہ مؤقف اختیار کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا کے ساتھ طے پانے والے مخصوص شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ ایرانی حکام نے آبنائے کی بحالی کو سکیورٹی اور دیگر شرائط سے مشروط کیا ہے

