لاہور(خبر نگار)پنجاب کے صنعتی مزدوروں کے
لیے مریم نواز راشن کارڈ اسکیم کے تحت ماہانہ 3 ہزار روپے کی امداد میں تاخیر نے مستحق خاندانوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔ جولائی 2026 میں 12 لاکھ سے زائد مزدوروں کو کارڈ جاری ہونے اور اربوں روپے تقسیم کیے جانے کے سرکاری اعدادوشمار کے باوجود ستمبر کی ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے دور میں معمولی مالی امداد بھی گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اسکیم کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے، تاہم ستمبر کی واجب الادا رقم کی حقیقی ادائیگی، تاخیر کی وجوہات، ناکام ٹرانزیکشنز اور ماہانہ مالی مفاہمت کا ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مستحقین کی تعداد، جاری شدہ رقوم اور بینکوں کو منتقل کیے گئے فنڈز کی تفصیلات جاری کی جائیں تاکہ کسی انتظامی غفلت یا مالی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین ہو سکے
