Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • زرعی شعبے کی بہتری اور مشکلات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت سردار سلیم حیدر
    • راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ،سی پی او نے کرکٹ سٹیڈیم کی ڈیرٹیز چیک کیں ۔
    • رالپنڈی :تھانہ بنی پولیس کی کارروائی ،زیر حراست گینگ سے10مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد۔
    • فتح جنگ :پی پی پی کسان ونگ کے صدر آصف حیات خان گورنر پنجاب سردار سلیم خان سے ملاقات کررہے ہیں ۔
    • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت
    • ریاض:مشوانی قبائل کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں دی گئی تقریب کے موقع پر لی گئی گروپ تصویر۔
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں ،9افراد گرفتار،پتنگیں،ڈوریں شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمدکرلیا
    • برٹش ہائی کمشنرکا ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات کے ہمراہ موضع مرید کا دورہ
    • کی کاوشیں جاری اسلام آباد کو ترقی یافتہ، سرسبز دارالحکومت بنانے کیلئے CDA
    • ریاض:مشوانی قومی تڑون قبیلہ کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں عشائیہ
    • پنجاب کالج جنڈ میں پرنسپل ملک اقبال کی زیرِ صدارت سیرت النبی ۖ کانفرنس
    • پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سر عام غیر قانونی ایل پی جی گیس بھرنے کا سلسلہ جاری
    • کرکٹ سیریز کیلئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے گئے: مشتاق سکھیرا
    • نوٹسز بے سود3 ہزار سے زائد شاپنگ مالز بڑی عمارتیں فائر سیفٹی انتظامات سے محروم
    • راولپنڈی،،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 2 افراد گرفتار
    • راولپنڈی، 3 مختلف مقدمات میں مطلوب 4 اشتہاری مجرم گرفتار
    • پاکستان سری لنکا دوسرا ٹی 20 میچ پر سکیورٹی و ٹریفک کے موثر انتظامات
    • کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے گلستان جوہر میں نئے صوبوں ‘ انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حوالے سے منعقدہ عوامی رابطہ مہم سے ڈاکٹر فاروق ستار خطاب کر رہے ہیں۔
    • جاپانی سفیر اکاماٹسو شوئچی کی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فیروز شاہ سے ملاقات
    • کراچی پورٹ کی عالمی انڈیکس میں ریکارڈ کارکردگی، وزیراعلیٰ سندھ کی مبارکباد
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پی ٹی آئی کا دہشت گردوں سے گٹھ جوڑآئینی طریقے سے ہٹایا وفاقی وزیر

    By Khabrain Newsاکتوبر 12, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    رپورٹس میں صوبے کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا’ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں: عطا تارڑ
    اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزراء محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام ہوچکی تھی، پی ٹی آئی اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ تھا، صوبائی حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹایا۔ یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہمارا ایشو صرف دہشت گردی ہے، دھرنے کو موخر کرنے والی شرط پیپلز پارٹی کی تھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج کا دن آسان دن نہیں تھا، ایک ماہ سے مسلسل کوشش کرتے رہے کہ کے پی حکومت کو آن بورڈ کرسکیں، بیک گرانڈ میں خود کے پی حکومت سے رابطے میں تھا، لانگ مارچ کے لیے جو باتیں کیں وہ ہو رہی تھیں ملاقاتیں اور دیگر معامالات چل رہے تھے، وزیراعظم نے نیویارک کے لیے 17ستمبر کو نکلنا تھا، یہ طے ہوا کہ کہ وہ جانے سے قبل اپوزیشن سے ملیں گے، ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا، پندرہ یا سولہ اکتوبر کو ملاقات ہونی تھی، مگر کوئی جواب نہ ملا، پھر بھی رابطہ رہا صدر اور وزیراعظم کی ملاقات ہوئی میں نے کہا کہ آپ کے پی حکومت کو آن بورڈ کر لیں اگلے دن چار دفعہ ڈرافٹ تبدیل ہوا، جب چیزیں فائنل ہوئی تو پتہ چلا کہ نیا ڈرافٹ آگیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ کل رات پونے بارہ بجے میرا پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ رہا، ایک پیرا میں تجویز تھی مگر ان کا کوئی جواب نہیں آیا، آخری کال رات پونے بارہ بجے کی تھی جس میں کہا کہ ابھی بھی کچھ ہو سکتا ہے پھر بھی کوئی جواب نہ آیا، فضل الرحمان کی پی ایم سے ملاقات ہوئی، ہماری جب بھی ان سے بات ہوتی تھی ہم کہتے تھے کہ دھرنے سے ہمیں مسئلہ نہیں ہے ہمارا ایشو صرف دہشت گردی ہے، ان کے ساتھ ہم رابطے میں تھے، پہلے بھی ہم نے ہی پی ٹی آئی سے رابطہ کیا، دھرنے کو موخر کرنے والی شرط پی پی پی کی تھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں، آپ شوق سے دھرنا دیں ہماری توجہ انسداد دہشت گردی پر ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ کے پی کے میں صورتحال بہت خراب ہے، کچھ اضلاع میں لوگ شام وقت باہر نہیں نکل سکتے، کل الیکشن کمیشن کے آفیسر کی ڈیتھ ہوئی، سہیل آفریدی سے ہماری کافی ملاقاتیں ہوئی اور ٹاپک صرف دہشت گردی ہوتا تھا، آپ ان سے پوچھیں کہ ہم نے پلان نہیں بنایا کہ اضلاع میں پولیس میں مضبوط کریں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں پیسوں کا مسئلہ ہے، میں نے انہیں کہا جہاں پیسوں کو مسئلہ ہے وہ ہم پورا کریں گے، مذاکرات کے دوران انہوں نے ہم سے اتفاق کیا کہ ہاں ان اضلاع میں ایمرجنسی لگنی چاہیے، کوئی ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں تھا، ہمارے ساتھ تصاویر جاری کرنے میں ان کو مسئلہ ہوتا تھا، میں نے کبھی انہیں نہیں کہا کہ آپ تصویر بنائیں یا جاری کریں۔محسن نقوی نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردی کے اوپر ہم اپنے جوانوں کی جانیں گنوائیں اور کے پی حکومت اس کو اوون نہ کرے، دہشت گردی سے کسی بھی صورت اکیلے نہیں لڑا جا سکتا، مل کر لڑنا پڑتا ہے، یہ جو مشکل فیصلہ ہم نے کیا ہے اس کا ایک بیک گرانڈ ہے، ہم نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح اس کو روکا جا سکے، پچھلے ڈیڑھ سال کے اندر 518 پولیس والے شہید ہوئے ہیں، کل رات کو بھی اگر ان کی ہاں آ جاتی تو یہ صورتحال نہیں بنتی، آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کون لوگ تھے جو ان چیزوں کو سبوتاژ کرتے تھے؟ مجبورا ہمیں گورنر راج لگانا پڑا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تاڑر نے کہا کہ وزیر داخلہ نے جو باتیں کی ہیں، اس حوالے سے وزیراعظم نے صدر مملکت کو آگاہ کیا، گورنر نے اپنی رپورٹ وفاق کو بھجوائی جو ان کی آئینی ذمہ داری ہے، پچھلے دو سے اڑھائی سال میں دہشت گردی کے واقعات میں 196فیصد اضافہ ہوا، شہادتوں اور گاڑیوں کے نقصان میں بھی اسی طرح اضافہ ہوا، فوج، پولیس، دینی رہنماوں پر حملے بڑھ چکے ہیں، صدر مملکت نے آئین میں رہتے ہوئے اقدام اٹھایا ہے، آئین میں واضح ہے کہ یہاں امن اومان کی صورتحال کا معاملہ ہو تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے، وزیراعظم کے مشورے پر صدر نے ایمرجنسی کا نفاذ کا اعلان کیا ہے، حالات ایسے تھے کہ ایمرجنسی اور گورنر کے آرٹیکل کا اطلاق کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا گیا ہے اور گورنر کو آئین کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے، گیارہ رکنی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، بارہ اضلاع میں ایک سیکریٹریٹ قائم کیا ہے، وہاں سے ڈائریکٹ وفاق کو رپورٹ کیا جائے گا، ایک کونسل بنائی گئی ہے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کونسل کو سنبھالے گا تمام آئینی عہدوں رکھنے والوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے، آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کردی گئی ہے۔وزیر اطلاعات عطا تاڑر نے کہا کہ کے پی کے میں جو حکومت ہے ان کا دہشت گردوں کے ساتھ الائنس ہے، آئی بی، لا انفورسمنٹ ایجنسی کی جانب سے رپورٹ پیش کی اور وہاں صورتحال بہت خوفناک ہے، کے پی میں تمام جماعتوں کے رہنمائوں پر حملے ہوئے، ان کا ایک الائنس ہے اس لئے انہیں محفوظ راستہ دیا جاتا ہے، جن لوگوں نے لوگوں پر افواج پاکستان پر حملے کئے آپ نے انہیں ایمپاور کر دیا، میں کوہاٹ کے ہسپتال میں موجود تھا وہاں زخمی لوگ ملے انہوں نے کہا کہ ہماری ان سے جان چھڑوائیں، جن کی ذمہ داری تھی سکیورٹی کی انہوں نے دہشت گردوں کو شراکت دار بنایا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا، خیبرپختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل ہو چکی ہے۔نجی ٹی سی سے گفتگو میںانہوںنے الزام عائد کیا کہ بعض افراد کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے ساتھ روابط کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اپنے دوروں کے دوران مختلف مقامات پر گئے اور وہاں دہشت گردوں سے اپنے لوگوں کا خیال رکھنے کی بات کی، ایسے اقدامات کے ذریعے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہوں نے سہیل آفریدی پر صوبے میں دہشت گردی روکنے میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے دعوی کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کا گورنر ہاس کو آگ لگانے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم ان کے بقول لوگ اس مقصد کے لیے باہر نہیں نکلے۔عطا تارڑ نے کہا کہ شفیع جان بھی بھاگ گئے ہیں اور لانگ مارچ کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں رہا، سہیل آفریدی کو سیاسی طور پر کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں گھومتے گھومتے گم ہو گئے۔
    وفاقی وزرائ

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      زرعی شعبے کی بہتری اور مشکلات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت سردار سلیم حیدر

      راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ،سی پی او نے کرکٹ سٹیڈیم کی ڈیرٹیز چیک کیں ۔

      رالپنڈی :تھانہ بنی پولیس کی کارروائی ،زیر حراست گینگ سے10مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد۔

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.