راولپنڈی (عرفان طاہر چوہان سے) راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں سنوکر کلبوں اور شیشہ سینٹرز کی بھرمار، نوجوان نسل مبینہ طور پر بے راہ روی کا شکار ہونے لگی۔ بعض سنوکر کلبوں میں منشیات کے استعمال اور جوئے کی سرگرمیوں کی شکایات سامنے آنے لگیں، جبکہ کلبوں میں لڑائی جھگڑوں کے دوران قیمتی جانیں ضائع ہونے کے واقعات بھی
پیش آ چکے ہیں۔ متعلقہ علاقوں میں رات گئے تک مشکوک افراد کی آمدورفت، شور شرابہ، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑوں کے باعث اہلِ علاقہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ شہریوں نے سی پی او راولپنڈی سے فوری نوٹس لینے اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تھانہ صادق آباد، تھانہ پیرودھائی، تھانہ صدر بیرونی، تھانہ سول لائن اور تھانہ نصیر آباد کی حدود میں مختلف مقامات پر قائم سنوکر کلب علاقہ مکینوں کے لیے دردِ سر بن گئے ہیں۔ بیت صدا کالونی، مصریال چوک کے قریب رینج روڈ، شالے ویلی، لالکرتی، صادق آباد اور دیگر علاقوں میں سنوکر کلبوں اور شیشہ سینٹرز کی موجودگی پر شہریوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اہلِ علاقہ کے مطابق بعض سنوکر کلبوں میں رات گئے تک مشکوک افراد کی آمدورفت جاری رہتی ہے، جبکہ نوجوانوں کی جانب سے مبینہ طور پر منشیات کے استعمال اور جوئے کی سرگرمیوں کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے باعث آئے روز لڑائی جھگڑے، شور شرابہ اور گالی گلوچ معمول بنتے جا رہے ہیں، جس سے علاقے کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔شہریوں کے مطابق شام کے اوقات میں سنوکر کلبوں کے باہر موٹر سائیکلوں کی بڑی تعداد کھڑی ہو جاتی ہے اور نوجوانوں کے مختلف گروہ گلیوں میں موجود رہتے ہیں، جس سے اہلِ محلہ کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین اور بچوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے، جبکہ اہلِ علاقہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان سرگرمیوں پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ سنوکر کھیلنے کے نام پر قائم بعض کلبوں میں مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی شکایات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی سنوکر کلبوں میں لڑائی جھگڑوں کے دوران جانی نقصان کے واقعات پیش آ چکے ہیں، اس لیے متعلقہ پولیس حکام کو ان مقامات کی نگرانی اور شکایات کی فوری جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔اہلِ علاقہ نے مزید بتایا کہ وہ متعدد مرتبہ متعلقہ حکام کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرا چکے ہیں، تاہم ان کے بقول تاحال مثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ شہریوں نے سی پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں قائم سنوکر کلبوں اور شیشہ سینٹرز کی جانچ پڑتال کی جائے، جہاں منشیات، جوئے یا دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کی شکایات ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور رات گئے تک جاری رہنے والی سرگرمیوں کی بھی نگرانی کی جائے، تاکہ نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اہلِ علاقہ کے لیے پرامن ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
