اسلام آباد (عادل عباسی) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فزکس میں بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کرنے والی لائبہ اعجا کی موت کے واقعے نے بیرونِ ملک اعلی تعلیم کے نام پر مبینہ فراڈ، جعلی دستاویزات اور لاکھوں روپے کی وصولی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق لائبہ ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے فزکس میں ایم ایس کرکے سائنس دان بننا چاہتی تھی، تاہم ایک مبینہ کنسلٹنٹ نے اسے وظیفے پر داخلہ دلوانے کی یقین دہانی کرا کے بھاری رقم طلب کی۔ خاندان کا الزام ہے کہ داخلے اور وظیفے کے لیے فراہم کردہ دستاویزات بعد میں مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوئیں۔ واقعے کا وفاقی تحقیقاتی ادارے نے نوٹس لیا ہے، جبکہ پولیس موت کے حالات اور مبینہ مالی فراڈ کے پہلوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق لائبہ اعجاز کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں اتوار بازار کے قریب گرین بیلٹ سے ملی۔ واقعہ تھانہ رمنا کی حدود میں پیش آیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ موت کے حالات جاننے کے لیے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں اور ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید تفتیش کے بعد واضح ہوگی۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں لائبہ کی عمر 20 اور 22 سال بیان کی گئی ہے، اس لیے عمر کی حتمی تصدیق سرکاری ریکارڈ سے ہونا ضروری ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق لائبہ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے فزکس میں بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ مکمل کی تھی اور اس کا خواب امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کرنا تھا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ایک کنسلٹنٹ نے ہارورڈ میں داخلے اور وظیفے کا انتظام کرنے کی یقین دہانی کرائی اور اس مقصد کے لیے تقریبا 70 لاکھ روپے طلب کیے۔ اہلِ خانہ کے بقول لائبہ کے والد نے بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنی جائیداد میں سے پلاٹ فروخت کیا اور مبینہ طور پر 21 لاکھ روپے نقد ادا کیے۔ والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرکے خاندان کی کفالت کرتے تھے اور کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔
خاندان کے مطابق باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے لائبہ کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوائے گئے۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ کنسلٹنٹ نے داخلے اور وظیفے کے نام پر اعتماد حاصل کیا، لیکن جب لائبہ نے دستاویزات کی جانچ کرائی تو وہ مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔ زرائع کے مطابق خاندان نے ہارورڈ یونیورسٹی کے نام سے منسوب اسکالرشپ خط بھی جعلی ہونے کا دعوی کیا ہے۔ دستاویزات کی اصلیت، ان کی تیاری اور رقم کی منتقلی کی آزادانہ تصدیق ابھی ضروری ہے۔ مبینہ فراڈ کے معاملے میں ایک اور دل خراش پہلو لائبہ کا اپنے والد کو اس صدمے سے بچانے کی کوشش کرنا ہے۔ اہلِ خانہ نے بتایا کہ لائبہ نے اپنے ماموں کو آخری پیغام میں درخواست کی کہ والد کو اس کے ساتھ ہونے والے مبینہ فراڈ کے بارے میں نہ بتایا جائے، کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ زرائع کے مطابق اس پیغام کی مکمل تفصیلات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی تصدیق تفتیش کا حصہ بن سکتی ہے۔ خاندانی زرائع کا کہنا ہے کہ اس شخص نے لائبہ کے بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کا وعدہ کیا اور اس مقصد کے لیے الگ سے پانچ لاکھ روپے وصول کیے۔ خاندان نے یہ دعوی بھی کیا کہ متعلقہ شخص خود کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اکانٹس افسر ظاہر کرتا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر شہزاد بخاری نے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ ایف آئی اے نے اہلِ خانہ سے رابطہ کرکے مزید تفصیلات طلب کیں، جس کی تصدیق لائبہ کے ماموں رانا امجد نے کی۔ تاہم ایف آئی اے کی جانب سے مقدمے کے اندراج، کسی گرفتاری یا تحقیقات کے حتمی نتائج سے متعلق تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے بھی لائبہ کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق لائبہ نے چند سال قبل فزکس میں بی ایس کی ڈگری مکمل کی تھی اور واقعے کے وقت وہ یونیورسٹی کی باقاعدہ زیرِ تعلیم طالبہ نہیں تھیں۔ یونیورسٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس معاملے میں پولیس اور ایف آئی اے کے لیے اہم سوالات یہ ہیں کہ ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور وظیفے سے متعلق مبینہ جعلی دستاویزات کس نے تیار کیں، رقم کس اکانٹ میں منتقل ہوئی، کنسلٹنٹ نے اپنی شناخت اور سرکاری عہدے کے بارے میں کیا دعوے کیے اور کیا اس نوعیت کی دوسری شکایات بھی موجود ہیں۔ متعلقہ جامعہ سے براہِ راست تصدیق، بینک ریکارڈ، رسیدوں، موبائل پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ سے معاملے کی حقیقت سامنے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ واقعہ بیرونِ ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ اور والدین کے لیے بھی ایک اہم تنبیہ ہے کہ داخلے، وظیفے اور ویزے کے نام پر رقم ادا کرنے سے پہلے متعلقہ جامعہ اور دستاویزات کی براہِ راست تصدیق کی جائے۔ لائبہ اعجاز کی موت کے حالات، مبینہ مالی فراڈ اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوتی، مبینہ فراڈ کے الزامات کو ثابت شدہ جرم اور موت کی وجہ کو حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی خود کشی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا نوجوان طالبہ کی خود کشی انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے،
وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو مرحومہ کے ساتھ فراڈ کرنے والے ملزم کو فوری طور پر حراست میں لینے کی ہدایت کی اور کہا ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے گی،
بریکنگ نیوز
- چکالہ کنٹونمنٹس بورڈز کے ملازم نے اپنے ہی افسر کے خلاف مبینہ کرپشن کی درخواست دے دی
- گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی مبینہ خودکشی کا معاملہ، ملزم نعمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
- بوجہ جاری ضلعی ترقیاتی پراجیکٹسمحدود فیڈرز پر عارضی بجلی بندش شیڈول
- محکمہ جنگلات کوباضابطہ فورس کا درجہ دینے کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع
- بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے افسران و جوانوں میں تعریفی سرٹیفیکیٹ تقسیم
- حکومت سندھ کے 20 زیرتربیت افسران کا پیف کا دورہ
- چیئرمین سی ڈی اے کا اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ منصوبے کا دورہ
- نمل میں 580واں یومِ ہنگول منایا گیا
- سپیشل پرائس مجسٹریٹ تحصیلدار فتح جنگ چو ان ایکشن، گراں فروشوں کی دوڑیں
- میٹرک دوسرا سالانہ امتحان شفافیت، میرٹ اور امتحانی قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے اقدامات جاری
- ڈسٹرکٹ بارمری کی اپیل پر خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کیخلاف پیر کے روز مکمل ہڑتال کی گئی
- تعلیمی اداروں میں ٹریفک قوانین و روڈ سیفٹی بارے آگاہی کا سلسلہ جاری
- گوجر خان سہولت بازار کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا خاتمہ
- لاہور سے شادی پر آئی 8 سالہ بچی سے زیادتی کے مقدمہ کا ملزم گرفتار
- انہار افسران کی سر پرستی پانی چوری عروج پر ٹیل کے کسان رل گئی
- جاتلی پولیس کی کارروائی،12 سالہ لڑکے سے زیادتی کی کوشش کرنے والا شخص گرفتار
- راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں، 4 افراد کو حراست میں لے کر شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کر لیا
- جاتلی پولیس کی کارروائی 12 سالہ بچے سے زیادتیکی کوشش کرنیوالا ملزم گرفتار
- حویلیاںسے چکوال آنیوالی خاتون بچوں سمیت پراسرار طور پر لاپتہ
- گوجرخان کا معروف تجارتی مرکز کھوکھا بازار کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا
