Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • زرعی شعبے کی بہتری اور مشکلات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت سردار سلیم حیدر
    • راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ،سی پی او نے کرکٹ سٹیڈیم کی ڈیرٹیز چیک کیں ۔
    • رالپنڈی :تھانہ بنی پولیس کی کارروائی ،زیر حراست گینگ سے10مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد۔
    • فتح جنگ :پی پی پی کسان ونگ کے صدر آصف حیات خان گورنر پنجاب سردار سلیم خان سے ملاقات کررہے ہیں ۔
    • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت
    • ریاض:مشوانی قبائل کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں دی گئی تقریب کے موقع پر لی گئی گروپ تصویر۔
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں ،9افراد گرفتار،پتنگیں،ڈوریں شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمدکرلیا
    • برٹش ہائی کمشنرکا ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات کے ہمراہ موضع مرید کا دورہ
    • کی کاوشیں جاری اسلام آباد کو ترقی یافتہ، سرسبز دارالحکومت بنانے کیلئے CDA
    • ریاض:مشوانی قومی تڑون قبیلہ کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں عشائیہ
    • پنجاب کالج جنڈ میں پرنسپل ملک اقبال کی زیرِ صدارت سیرت النبی ۖ کانفرنس
    • پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سر عام غیر قانونی ایل پی جی گیس بھرنے کا سلسلہ جاری
    • کرکٹ سیریز کیلئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے گئے: مشتاق سکھیرا
    • نوٹسز بے سود3 ہزار سے زائد شاپنگ مالز بڑی عمارتیں فائر سیفٹی انتظامات سے محروم
    • راولپنڈی،،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 2 افراد گرفتار
    • راولپنڈی، 3 مختلف مقدمات میں مطلوب 4 اشتہاری مجرم گرفتار
    • پاکستان سری لنکا دوسرا ٹی 20 میچ پر سکیورٹی و ٹریفک کے موثر انتظامات
    • کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے گلستان جوہر میں نئے صوبوں ‘ انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حوالے سے منعقدہ عوامی رابطہ مہم سے ڈاکٹر فاروق ستار خطاب کر رہے ہیں۔
    • جاپانی سفیر اکاماٹسو شوئچی کی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فیروز شاہ سے ملاقات
    • کراچی پورٹ کی عالمی انڈیکس میں ریکارڈ کارکردگی، وزیراعلیٰ سندھ کی مبارکباد
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کراچی تباہ حال ،صنعتکاروں اور تاجروں نے شہر کو خطرناک قرار دیدیا

    By Khabrain Newsاکتوبر 11, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کراچی (بزنس رپورٹر)چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا نے کراچی کو سنگین شہری و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان کا معاشی مرکز جو وفاقی محصولات میں تقریباً 67 فیصد اور ملکی برآمدات میں 54 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ یہ شہر خستہ حال سڑکوں، پانی کی شدید قلت، غیر یقینی یوٹیلیٹی سروسز، تباہ حال سیوریج نظام اور بے لگام اسٹریٹ کرائم کا شکار کیوں ہے؟زبیر موتی والا نے کراچی کے تجارتی اداروں اور صنعتی ٹاؤن ایسوسی ایشنز کے سرپرست ِ اعلیٰ، صدور، سیکرٹری جنرلز اور نمائندوں کے اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررہ مدت میں اقدامات، ادارہ جاتی احتساب اور حقیقی معنوں میں نتائج کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کراچی کو وعدوں کی نہیں بلکہ عملی کارکردگی کی ضرورت ہے۔انہوں نے شہری بدانتظامی کی معاشی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بجلی اور گیس کی غیر یقینی فراہمی، ناکافی انفراسٹرکچر اور صنعتی صلاحیت کا کم استعمال پیداواری لاگت بڑھا رہے ہیں جس سے مسابقتی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کے فور منصوبے کی جلد تکمیل، مکمل طور پر فعال سیف سٹی سسٹم، کراچی بائی پاس (جو ممکنہ طور پر 70 فیصد بھاری ٹریفک کو شہر سے باہر منتقل کر سکتا ہے)، سڑکوں کی بحالی کی لازمی ضمانت، آزادانہ انجینئرنگ آڈٹ اور کاروبار دوست ٹیکس نظام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بجلی بلوں میں شفافیت، سروس میں ناکامی پر صارفین کو خودکار معاوضے، خطے میں مسابقتی گیس نرخوں، ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ اور ٹیکس ریفنڈز کے تیز تر تصفیے کا بھی مطالبہ کیا۔زبیر موتی والا نے فوری طور پر 5 ترجیحی امور کی نشاندہی کرنے، متعلقہ اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کرنے اور واضح ڈیڈ لائنز و قابل پیمائش کارکردگی کے اشاریے مقرر کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کراچی کی تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز کے ایک متحدہ پلیٹ فارم کے قیام پر بھی زور دیا جسے ان کے اراکین کی مکمل سپورٹ حاصل ہو تاکہ متعلقہ حکام پر اصلاحی اقدامات کے لیے مؤثر دباؤ ڈالا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ مقصد سیاسی یا انتظامی تنازع نہیں بلکہ کراچی کو رہنے کے قابل، محفوظ اور معاشی طور پر مسابقتی شہر بنانا ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ منتشر کوششوں اور بار بار کی یقین دہانیوں کے بجائے مربوط اور نتائج پر مبنی حکمتِ عملی اپنائیں۔وائس چیئرمین بی ایم جی انجم نثار نے کراچی کے تاجر وصنعتکار برادری پر زور دیا کہ وہ مسائل کی نشاندہی سے آگے بڑھیں اور شہر کے بگڑتے ہوئے شہری و معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ اور قابلِ عمل ایجنڈا تیار کریں۔انہوں نے کراچی کی ابتر حالت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مشترکہ ڈاکیومنٹری بنانے کی تجویز دی جس میں شہر کے زمینی حقائق بالخصوص کرپشن، بھتہ خوری، حد سے زیادہ ٹیکسیشن اور بگڑتے ہوئے انفراسٹرکچر کی نشاندہی کی جائے۔انہوں نے پانی کی قلت کے مستقل حل، طویل عرصے سے تاخیر کا شکار کے فور منصوبے کی تکمیل اور ایک عملی مالیاتی ماڈل کیحمایت کی جو مقامی حکومتوں کو مناسب وسائل فراہم کرے۔ انہوں نے مشترکہ سفارشات مرتب کرنے کے لیے کے سی سی آئی اور تجارتی ایسوسی ایشنز کی جانب سے مشترکہ پری بجٹ مشاورت کی بھی تجویز دی۔انہوں نے وفاقی و صوبائی حکام کے سامنے مضبوط اجتماعی نمائندگی، مسلسل فالو اپ اور مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں کراچی کے جائز حقوق کے حصول کے لیے مربوط احتجاج پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ شہر کے مسائل کو انفرادی تنظیموں کے مطالبات کے بجائے مشترکہ مقصد کے طور پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلوانی نے کراچی کی تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ تین سے چار فیصلہ کن ترجیحات پر متحد ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل اجتماعی دباؤ اور احتساب کے بغیر شہر کے دیرینہ مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ انہوں نے سیف سٹی منصوبے پر فوری عمل درآمد، اسٹریٹ کرائم اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی، سرکاری املاک کے تحفظ اور کراچی کے محصولات کی شفاف دستاویزی تیاری اور تقسیم کا مطالبہ کیا تاکہ شہریوں اور انفراسٹرکچر ضروریات پوری کی جا سکیں۔انہوں نے بار بار سڑکوں کی کھدائی اور تعمیر نو، سرکاری زمین کی مبینہ فروخت، مین ہول کے غائب ڈھکنوں، لیاری اور ملیر ندی کے پلاٹوں پر تجاوزات اور شہری سیلاب کے خطرے پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے ضائع ہونے سے روکنے اور معیاری تعمیرات یقینی بنانے کے لیے سرکاری ٹھیکوں پر تاجر برادری کی نگرانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تاجروں پر سنگین حملوں کے خلاف متحدہ ردعمل کی بھی تجویز دی جس میں کسی تاجر کے قتل کی صورت میں پورے شہر میں شٹر ڈاؤن کا امکان بھی شامل ہو۔ انہوں نے کے سی سی آئی، تجارتی ایسوسی ایشنز، صنعتکاروں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے ایک مربوط مہم شروع کریں کیونکہ صرف متحد،شواہد پر مبنی اور دو ٹوک مؤف ہی حکام کو کراچی کے سنگین چیلنجز حل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔وائس چیئرمین بی ایم جی میاں ابرار احمد نے کراچی چیمبر کی مستقل اور براہِ راست نمائندگی کراچی کے شہری انفراسٹرکچر، یوٹیلیٹیز اور معاشی ترقی سے متعلق اہم حکومتی اداروں اور عوامی شعبے کے اداروں میں یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جن میں سندھ اسمبلی، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور کے فور واٹر منصوبہ شامل ہیں۔انہوں نے کراچی کی اسٹریٹجک اہمیت اور قومی محصولات میں اس کے نمایاں حصے کو اجاگر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ شہر کو براہِ راست متاثر کرنے والے فیصلوں میں تاجر برادری مناسب نمائندگی سے محروم ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کرپشن اور رشوت کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کبھی کبھار کی ملاقاتیں فیصلہ سازی میں باضابطہ کردار کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔انہوں نے 30 ستمبر کو منظور ہونے والی کے سی سی آئی کی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے زور دیا کہ ادارہ جاتی نمائندگی سے شفافیت بہتر ہوگی، احتساب مضبوط ہوگا، قابلِ اعتماد معلومات میسر آئیں گی اور کاروباری رہنما زمینی حقائق براہِ راست پالیسی سازوں تک پہنچا سکیں گے اور ان کی بامعنی شرکت کراچی کے دیرینہ شہری اور معاشی چیلنجز کے حل کے لیے ناگزیر ہے۔وائس چیئرمین بی ایم جی طارق یوسف نے کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سہولت دینے والے نیٹ ورکس کو کراچی کی بگڑتی ہوئی شہری حالت کی بنیادی وجوہات قرار دیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ سڑکوں اور گلیوں پر ریسٹورنٹس اور تجارتی اداروں کا قبضہ، ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی برداشت اور غیر قانونی بجلی کنکشنز میں ملوث افراد کو مالی فائدہ پہنچائے بغیر کیسے ممکن ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس کی قیمت ٹریفک جام، تکلیف اور پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات تک غیر منصفانہ رسائی کی صورت میں بالآخر عوام ادا کرتے ہیں۔انہوں نے فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تاجر برادری اور متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ عوامی مقامات پر غیر قانونی قبضے اور شہری وسائل کے ناجائز استعمال کو ممکن بنانے والے نظام کو بے نقاب کرکے ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہر سطح پر کرپشن کا مقابلہ نہیں کیا جاتا کراچی کے انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات میں دیرپا بہتری ممکن نہیں ہوگی۔ صدر کے سی سی آئی طلعت محمود نے تجویز دی کہ کراچی کی تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز کی ایک نمائندہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو 15 دن کے اندر قابلِ عمل اصلاحاتی ایجنڈا تیار کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید تاخیر شہر کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے درکار اتحاد اور رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔انہوں نے مخصوص مسائل کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے، جامع ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) تیار کرنے، کے سی سی آئی اور ٹاؤن ایسوسی ایشنز کی قیادت کو باقاعدہ پیشرفت رپورٹ دینے، صنعتکاروں، تاجروں اور چھوٹے کاروباری اداروں پر مشتمل مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے وفاقی و صوبائی حکومتوں پر ٹھوس اقدامات کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کراچی کے مسلسل بڑھتے انفراسٹرکچر مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے سرکاری دفاتر، بشمول سب رجسٹرار آفس اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق شکایات کی تحقیقات کے لیے خصوصی انسدادِ بدعنوانی مہم کا مطالبہ کیا جہاں مقررہ فیس کے باوجود بھاری غیر سرکاری ادائیگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے تاجر برادری کی اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا کہ بی ایم جی کو ملنے والی تقریباً 91 فیصد انتخابی حمایت اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کی عکاس ہے اور اسے اتحاد، مسلسل رابطے، واضح ذمہ داریوں اور مربوط فالو اپ کے ذریعے ٹھوس نتائج میں تبدیل ہوناچاہیے۔کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کراچی کے بگڑتے ہوئے شہری اور معاشی چیلنجز کے حل کے لیے ایک مربوط، غیر سیاسی مہم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کی بار بار نشاندہی کے بجائے عمل درآمد اور احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے شہر کے بگڑے ہوئے سیوریج سسٹم کو سنبھالنے کے لیے ایک مخصوص اتھارٹی، سیف سٹی منصوبے پر فوری عمل درآمد، سڑکوں اور یوٹیلیٹی کے کاموں میں ہم آہنگی، لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور تجاوزات، غیر قانونی پارکنگ اور کرپشن کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی حمایت کی۔انہوں نے خبردارکیا کہ غیر ٹریٹ شدہ میونسپل اور صنعتی گندا پانی سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے اور آلودگی عوامی صحت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سرکاری و نجی داروں کے خلاف ماحولیاتی قوانین کے یکساں نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کراچی کی ریونیو تقسیم کی شفافیت پر بھی سوال اٹھایا اور سندھ ریونیو بورڈ کی مبینہ طور پر 372 ارب روپے کی وصولی کا حوالہ دیا جس کا تقریباً 95 فیصد انہوں نے کراچی سے منسوب کیا اور انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی سالانہ وصولی کا تخمینہ 150 سے 175 ارب روپے لگاتے ہوئے تمام وصولیوں اور اخراجات کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی نمایاں معاشی شراکت کا لازمی نتیجہ بہتر شہری سہولیات کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ انہوں نے تمام تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ عملی اور ترجیحی سفارشات پر متحد ہوں اور سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر متعلقہ حکام سے قابلِ پیمائش نتائج کا مطالبہ کریں۔رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کراچی کے دیرینہ شہری اور معاشی چیلنجز کے حل کے لیے مربوط پارلیمانی تعاون کا وعدہ کیا اور کے سی سی آئی اور بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا کو ان کی انتخابی کامیابی اور اجتماعی کاوش پر مبارکباد بھی دی۔انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کے فور اور مجوزہ لیاری ایلیویٹڈ ایکسپریس وے سمیت اہم منصوبے پارلیمانی سطح پر زیربحث لائے گئے ہیں اور فنڈنگ کے خلا کو پْر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے پورے پورے علاقوں میں طویل لوڈ شیڈنگ کی سخت مخالفت کی جو دوسروں کے نادہندہ ہونے کی سزا باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو دیتی ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، کے سی سی آئی، کراچی کے ارکان قومی اسمبلی اور کے الیکٹرک پر مشتمل اجلاس کی تجویز دی تاکہ موقع پر ہی مسائل کے حل تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے صنعتی کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی ختم کیے جانے اور پیداواری لاگت اور مسابقت پر اس کے اثرات کے حوالے سے مزید رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سابق صدر کے سی سی آئی زکریا عثمان نے کراچی کی تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ رسمی اور نمائشی اجلاسوں سے نکل کر شہر کے کئی دہائیوں پرانے مسائل کے عملی حل کے حصول کے لیے جارحانہ اور مسلسل مہم چلائے۔انہوں نے تقریباً 40 سال کے اپنے تجارتی سیاست کے تجربے کی بنیاد پر کہ کراچی کے چیلنجز پہلے ہی اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہیں اور مزید بحث و مباحثے کے بجائے اب فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کرپشن، جعلی پراپرٹی دستاویزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بلاتفریق مہم کا مطالبہ کیا اور انتظامی نااہلیوں، مبینہ غیر سرکاری ادائیگیوں کے مطالبات اور جائز ٹیکس ریفنڈز میں طویل تاخیر کو اجاگر کیا۔چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) حنیف گوہر نے کراچی میں بھتہ خوری، بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، قبضہ مافیا اور ریگولیٹری اداروں میں مبینہ کرپشن کے خلاف متحدہ اور غیر متزلزل مہم کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اجتماعی اقدام کے بغیر اجلاسوں اور تقاریر سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔انہوں نے کے سی سی آئی، آباد اور صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ وہ مشترکہ مشاورت اور واضح ایجنڈے کے ذریعے اس فریم ورک کو مضبوط کریں۔انہوں نے کاروباری اداروں کو درپیش سکیورٹی خطرات، جن میں ایک بلڈر کے دفتر میں سکیورٹی گارڈ کے مبینہ قتل کا واقعہ بھی شامل ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انفرادی ایسوسی ایشنز ان چیلنجز کا تنہا مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کر سکتیں۔پاکستان کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے رہنما احمد چنائے نے کراچی کے شہری اور معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کے سی سی آئی کی قیادت میں ایک خصوصی امپلی مینٹیشن کمیٹی تشکیل دینے اور مقررہ مدت پر مشتمل 100 روزہ ایکشن پلان مرتب کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اہم اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرنے پر چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا کو مبارکباد دیتے ہوئے تجویز دی کہ پہلے 15 دنوں میں مسائل کو ترجیح دی جائے اور ذمہ داریاں سونپی جائیں، متعلقہ سرکاری محکموں سے رابطہ کر کے 30 ویں دن تک ٹھوس یقین دہانیا حاصل کی جائیں اور 31 ویں دن سے 90 ویں دن تک پیشرفت کی منظم نگرانی کی جائے۔صدر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) شیخ عمر ریحان نے ادارہ جاتی نااہلی، کمزور احتساب اور انتظامی ناکامیوں کو کراچی کے دیرینہ مسائل کے حل نہ ہونے کی بنیادی وجوہات قرار دیا اور جامع اصلاحات، اختیارات کی منتقلی اور تمام سرکاری اداروں میں سخت کارکردگی پر مبنی احتساب پر زور دیا۔انہوں نے2019 میں کاٹی کے صدر کے طور پر اپنے تجربے اور تقریباً سات سال بعد دوبارہ منتخب ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ بار بار کی بات چیت کے باوجود وہی شہری اور انتظامی مسائل کیوں برقرار ہیں؟ انہوں نے ڈیجیٹل انوائسنگ اور سرویلنس کیمروں کی شرائط کے ذریعے دستاویزی کاروباری اداروں پر اضافی تعمیلی بوجھ ڈالنے پر ایف بی آر کو تنقید کا نشانہ بناتے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے، غیر ٹیکس شدہ معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ٹیکس اتھارٹی کی اپنی صلاحیت اور گورننس کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ملک خدا بخش نے ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے پیٹرول پمپس کو مبینہ طور پر جاری کیے گئے 15 نوٹسز پر کے سی سی آئی سے مداخلت کی درخواست کی اورمؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کمیشن ایجنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کی دانست میں کوئی قانونی شق انہیں اس طریقے سے ڈیجیٹل انوائس جاری کرنے کا پابند نہیں کرتی جس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے شرکائ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کے ساتھ پہلے ہی دو اجلاس کر چکی ہے اور منگل کو چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ایک اور اجلاس طے ہے۔ انہوں نے تعمیلی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا اور ایک متفقہ مؤقف تشکیل دینے کے لیے کے سی سی آئی سے قانونی رہنمائی کی درخواست کی۔نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز نے کے سی سی آئی پر زور دیا کہ وہ کراچی کے صنعتی اسٹیٹس، تجارتی مارکیٹوں اور معاشی مراکز کے لیے ایک مربوط، کاروبار دوست انتظامی نظام کی تشکیل کے سلسلے میں وفاقی حکومت سے رابطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 سے 7 سال کے دوران بار بار مشاورت کے باوجود بھی شہر کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکے۔سابق صدر کے سی سی آئی عبداللہ ذکی نے کراچی میں زمینوں پر قبضے کے سنگین مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطوں کی افادیت پر سوال اٹھایا اور تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ بے نتیجہ مشاورت کا سلسلہ ترک کرکے ایک مضبوط اور مشترکہ مؤقف اختیار کرے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر 6 ماہ کے اندر کوئی بامقصد پیشرفت سامنے نہ ائے تو احتجاجاً بائیکاٹ کیا جائے۔صدر فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری رضا حسین نے کے سی سی آئی اور اجلاس میں شریک ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ وہ کراچی کے شہری، انتظامی اور امن و امان سے متعلق مسائل پر ہونے والی گفتگو کو ایک واضح اور قابل عمل حکمت عملی میں تبدیل کریں۔اس حکمت عملی میں متعلقہ حکام کی نشاندہی، شکایات کے ازالے کے لیے باضابطہ ذرائع، ذمہ داریوں کی واضح تعین اور مؤثر پیروی کا نظام شامل ہونا چاہیے۔چیئرمین ویئر ہاؤس اینڈ لاجسٹکس ایسوسی ایشن نوید فاروقی نے کے سی سی آئی پر زور دیا کہ کراچی کے شہری اور معاشی مسائل پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے سہ ماہی یا ماہانہ اجلاسوں کا مستقل نظام قائم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی، ای او بی آئی اور سیسی سمیت بعض ریگولیٹری اداروں میں مبینہ بدعنوانی اور غیر سرکاری ادائیگیوں کے مطالبات کاروباری اداروں کے اخراجات اور ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔سابق صدر کے سی سی آئی افتخار احمد وہرہ نے کراچی کی تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ وہ محض بحث و مباحثے تک محدود رہنے کے بجائے متفقہ طور پر ایک ٹھوس قرارداد منظور کریں جس میں مشترکہ ترجیحات، عملی اقدامات اور شہر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی واضح کی جائے۔سابق صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری سلیم پاریکھ نے کے سی سی آئی پر زور دیا کہ وہ کراچی کے پانی و نکاسی آب بورڈ، کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت اہم اداروں میں تاجر برادری کی نمائندگی کی بحال یقینی بنائے تاکہ پانی، بجلی، گیس اور شہری مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے براہ راست رابطہ اور مؤثر بات چیت ممکن ہو سکے۔پاکستان ہوٹلز ایسوسی ایشن کے نمائندے اطہر بھٹو نے کہا کہ کراچی کو نظم و نسق میں بہتری، جوابدہی اور طویل المدتی بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے ذریعے شنگھائی کی ترقی اور تبدیلی کے تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے بدعنوانی، پانی کی چوری اور ناقص عوامی سہولیات کو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔ انہوں نے پانی کے استعمال اور فراہمی کی نگرانی کے لیے ہر صارف کے ہاں میٹر کی تنصیب اور آمدنی کی وصولی بہتر بنانے کے لیے مؤثر عمل درآمد پر زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے رنگ روڈز اور جدید ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عوامی بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس کے اختتام پر صدر کے سی سی آئی طلعت محمود نے تجویز پیش کی کہ اجلاس میں شریک تمام تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز کے نامزد نمائندوں پر مشتمل 5 کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جنہیں 15 روز کے اندر قابل عمل سفارشات اور جامع قواعد و ضوابط (ٹی او آرز) مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے، کے سی سی آئی اور ٹاؤن ایسوسی ایشنز کے مابین قریبی رابطہ و ہم آہنگی برقرار رکھی جائے اور صنعتکاروں، تاجروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ تاجر برادری کے متفقہ مطالبات مضبوط اور مؤثرانداز میں پیش کیے جا سکیں۔

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      زرعی شعبے کی بہتری اور مشکلات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت سردار سلیم حیدر

      راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ،سی پی او نے کرکٹ سٹیڈیم کی ڈیرٹیز چیک کیں ۔

      رالپنڈی :تھانہ بنی پولیس کی کارروائی ،زیر حراست گینگ سے10مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد۔

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.