اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سابق وزیر تعلیم پنجاب میاں عمران مسعود نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ملک بھر میں نصاب کی یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے اور نئے نصاب کے نفاذ کے لیے اپریل 2028 تک مہلت دی جائے، تاکہ معیاری درسی کتب کی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی اداروں کو نئے نظام کے لیے تیار کرنے کا مناسب وقت مل سکے۔منگل کو یہاں پاکستان میں نصابی اصلاحات سے متعلق میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے میاں عمران مسعود نے کہا کہ وفاقی حکومت، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جانب سے الگ الگ نصاب کی تیاری سے طلبہ کے درمیان تعلیمی معیار میں فرق پیدا ہونے اور دوسرے صوبوں میں منتقلی کی صورت میں بچوں کو مشکلات پیش آنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام صوبے اور وفاقی حکومت باہمی مشاورت سے مشترکہ بنیادی نصاب پر اتفاق کریں۔میاں عمران مسعود نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نصاب سازی کا اختیار صوبوں کو منتقل ہونے کے باوجود 2010 سے 2026 تک ملک میں نصاب کے حوالے سے عمومی یکسانیت برقرار رہی۔ انہوں نے کہا کہ نصاب محض ایک دستاویز نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی بنیاد ہے، جس پر طلبہ کے تعلیمی نتائج، اساتذہ کی تربیت، تدریسی منصوبہ بندی اور امتحانی نظام کا انحصار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نصاب اور درسی کتب کی تیاری ایک طویل عمل ہے، جس میں مواد کی تیاری، متعلقہ اداروں سے جائزہ، عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ کا حصول، طباعت اور تعلیمی اداروں تک کتب کی فراہمی شامل ہیں۔ نئے نصاب کے مثر نفاذ کے لیے اساتذہ کی تربیت اور اسکولوں کی تیاری بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی سال کے دوران تدریسی دنوں کی تعداد بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق یہاں سالانہ تقریبا 140 سے 145 دن تدریس ہوتی ہے، جبکہ متعدد دوسرے ممالک میں یہ تعداد 192 سے 220 دن تک ہے۔ انہوں نے معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے تدریسی دنوں اور نصاب کے اہداف میں مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔میاں عمران مسعود نے کہا کہ تمام بچوں کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نصاب اور درسی کتب کا معیار پورے ملک میں قابل قبول حد تک یکساں ہو۔ مختلف صوبوں میں الگ الگ کتابوں کی تیاری سے اخراجات میں اضافے کا امکان بھی ہے، جبکہ مشترکہ بنیادی نصاب سے وسائل کے بہتر استعمال اور کتابوں کی قیمتیں مناسب رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد حسین نے بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نصاب میں اصلاحات ایک خوش آئند پیش رفت ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد کے لیے مناسب وقت، مربوط منصوبہ بندی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور قومی نصابی کونسل، پنجاب اور خیبر پختونخوا اپنی اپنی سطح پر نصاب کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اپنے نصاب کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی جماعتوں کے لیے مختلف نصاب سامنے آنے سے تعلیمی معیار میں عدم مطابقت اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل ہونے والے طلبہ کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ارشد حسین نے تجویز دی کہ وفاق اور صوبے مل بیٹھ کر ایک مشترکہ بنیادی نصاب تیار کریں، جس میں انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس جیسے بنیادی مضامین کے لیے یکساں معیار مقرر کیا جائے، جبکہ سماجی علوم میں متعلقہ صوبوں کی تاریخ، جغرافیے اور مقامی ضروریات کو شامل کرنے کی گنجائش رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ نصاب کی تیاری کے بعد درسی کتب لکھنے، متعلقہ اداروں سے منظوری لینے، تدریسی منصوبہ بندی کرنے، اساتذہ کو تربیت دینے اور اسکولوں کو تیار کرنے کے مراحل مکمل کرنا ہوتے ہیں۔ اس لیے نصاب کا اعلان ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے مثر نفاذ کے لیے مکمل تیاری ضروری ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شازیہ اصغر نے کہا کہ ابتدائی اور پرائمری سطح پر بچوں کے لیے معیاری تعلیمی معیار یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے بھی تجویز دی کہ تمام صوبے قومی نصابی کونسل کے ساتھ مل کر بنیادی نصاب پر اتفاق کریں، تاکہ طلبہ کو انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس میں یکساں معیار کی تعلیم میسر آ سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبے سماجی علوم کے مضامین میں اپنی مقامی ضروریات اور علاقائی تناظر کے مطابق اضافی مواد شامل کر سکتے ہیں، تاہم بنیادی مضامین کے معیار میں یکسانیت برقرار رہنی چاہیے۔شازیہ اصغر نے کہا کہ نئے نصاب کے نفاذ سے قبل تجرباتی تدریس، اساتذہ کی تربیت، درسی کتب کی تیاری اور طلبہ کو نئے تعلیمی نظام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مناسب عبوری مدت دینا ضروری ہے۔ انہوں نے اپریل 2028 تک کا وقت دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جلد بازی میں نصاب نافذ کرنے کے بجائے اس کی مثر تدریس اور مطلوبہ تعلیمی نتائج کو یقینی بنایا جائے۔بریفنگ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ نصابی اصلاحات کے ثمرات طلبہ تک پہنچانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نصاب ساز اداروں، ناشرین اور تعلیمی ماہرین کے درمیان مثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔
