اسلام آباد (عادل عباسی) تحریکِ انصاف کی پارلیمانی سیاست میں اہم تبدیلی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، جہاں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی جگہ نئے امیدوار کے انتخاب کے لیے پارلیمانی پارٹی کے اندر مشاورت اور ووٹنگ کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ تبدیلی کو پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمتِ عملی، حکومت سے مذاکرات اور احتجاجی تحریک کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں اس معاملے پر مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ موجودہ سیاسی صورتِ حال میں قیادت کو مذاکرات اور مفاہمت کے عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ دوسری تجویز احتجاجی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے واضح اور مثر حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں میں پیش آنے والی مشکلات، محمود خان اچکزئی کی جانب سے مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے اور مردان میں موجود کنٹینر پر پہنچ کر احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کے حوالے سے تحفظات نے پارٹی کے اندر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان حالات میں پارلیمانی قیادت کی تبدیلی کے امکان کو بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اگر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کے ساتھ مل کر سڑکوں پر احتجاجی تحریک چلانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو انہیں قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کی تجویز پر پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں مثبت ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ اس تجویز کے حامیوں کی رائے میں مولانا فضل الرحمن کی شمولیت سے حکومت پر سیاسی دبا بڑھانے اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم اگر مولانا فضل الرحمن مشترکہ احتجاجی تحریک میں شامل ہونے پر رضامند نہ ہوئے تو مذاکرات اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا نام بھی زیرِ غور آنے کی اطلاعات ہیں۔ اس تجویز کے تحت پارلیمانی سطح پر رابطوں کو مثر بنانے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔سیاسی حلقوں میں ممکنہ تبدیلی کو تحریکِ انصاف کی آئندہ حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ پارٹی کو ایک طرف احتجاجی سیاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے تو دوسری جانب پارلیمان میں اپوزیشن کے کردار اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر بھی واضح لائح عمل اختیار کرنا ہے۔تاہم محمود خان اچکزئی کو عہدے سے ہٹانے، ان کی جگہ مولانا فضل الرحمن یا بیرسٹر گوہر علی خان کو قائدِ حزبِ اختلاف بنانے اور اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی کی باضابطہ ووٹنگ کے حوالے سے تاحال کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے مجوزہ تبدیلی کو فی الحال زیرِ غور سیاسی آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
