اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے سعودی عرب کے ساتھ باہمی
دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد، دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں،دونوں معاہدے علاقائی امن و سلامتی کیلئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے نو تعینات سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے جمعہ کو ملاقات کی۔ وزیراعظم نے پاکستان آمد اور نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر ڈاکٹر راجح تامی البقمی کو مبارکباد دی اور سعودی سفیر کی سفارتی ذمہ داریوں میں کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔ ۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا حالیہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا، وسیع کرنے کے لئے موجودہ ادارہ جاتی مکینزم کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں حالیہ اضافے کی شدید مذمت کی، جن کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور پاکستانی شہریوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ دونوں معاہدے علاقائی امن و سلامتی کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ عزم دہرایا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے ثابت قدمی سے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے پاکستان کو طویل مدتی اقتصادی اور مالی معاونت کی فراہمی پر سعودی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے عازمین حج و عمرہ کے لیے ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ویکسین کی خریداری کی تحقیقات کے لیے کابینہ سیکرٹری کی سربراہی میں اعلی سطح کی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں ڈی جی انٹیلی جنس بیورو، سربراہ ڈریپ، اٹارنی جنرل آفس کا نمائندہ اور ایم ڈی پیپرا شامل ہیں۔حکم کے مطابق اس تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہفتے کی صبح اسلام آباد میں ہوگا جبکہ وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی ویکسین کی قیمتوں، ٹینڈر کے طریقہ کار اور آمدن کی تقسیم کے معاہدوں کی تحقیقات کرے گی۔ویکسین کی فراہمی کا ٹھیکہ 7 کمپنیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جبکہ عمرہ زائرین سے ویکسینیشن پیکیج کے تقریبا 4500 روپے وصول کیے جانے پر بھی سوالات موجود ہیں۔حکام کے کہنا ہے کہ سعودی عرب نے عمرے کے لیے انفلوئنزا ویکسین لازمی قرار نہیں دی ہے۔
شہباز شریف
