اسلام آباد (عادل عباسی) تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی اطلاع سامنے آ گئی جبکہ سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور پی ٹی آئی کے علاقائی صدر خالد خورشید کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کے بعد پی ٹی آئی کی دیگر قیادت کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے روپوش رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں کی ممکنہ گرفتاری اور انہیں متعلقہ عدالتوں میں پیش کیے جانے کے حوالے سے بھی اطلاعات زیرِ گردش ہیں، تاہم اس سلسلے میں مزید گرفتاریوں یا عدالتی پیشیوں سے متعلق کسی نئے اقدام کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی اطلاع اسلام آباد کی ضلعی و سیشن عدالت میں آڈیو لیک مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آئی۔ سابق وزیراعلیٰ کے وکیل راجہ ظہور نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں، اس لیے ان کی عدم موجودگی میں دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عدالت میں ملزم کی عدم موجودگی اور سکیورٹی سے متعلق صورتِ حال کے باعث گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہ ہو سکے، جس کے بعد مقدمے کی مزید سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔ تاہم گرفتاری کے مقام اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے مزید سرکاری وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو پشاور میں اسپیکر ہاؤس سے حراست میں لیے جانے کے بعد اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں انہیں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ ان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں کارروائی کی گئی۔ خالد خورشید طویل عرصے سے مختلف مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ سیاسی حلقوں میں ان گرفتاریوں کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں امن و امان اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکامی کو ہنگامی اقدامات کی وجہ قرار دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس اقدام کو سیاسی انتقام اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتی رہی ہے۔ ان اقدامات کے بعد وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی تناؤ میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے دیگر روپوش رہنماؤں کے خلاف بھی قانونی کارروائیوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ اگر متعلقہ ادارے مزید گرفتاریوں کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان رہنماؤں کو متعلقہ مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آئندہ کارروائی کا دائرہ کن رہنماؤں تک بڑھایا جائے گا اور آیا تمام مطلوب افراد کو ایک ساتھ گرفتار کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی یا ان کے خلاف الگ الگ کارروائیاں ہوں گی۔ سہیل آفریدی کے حوالے سے بھی صورتِ حال اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ان کی گرفتاری یا عدالتی پیشی سے متعلق کسی نئی اطلاع کو حتمی قرار دینے سے پہلے متعلقہ حکام کی تصدیق ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف مقدمات، عدالتی احکامات اور ممکنہ گرفتاریوں کے تناظر میں آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں اور قانونی محاذ پر صورتِ حال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی اطلاع اور خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد پی ٹی آئی کو ایک اور سیاسی و قانونی دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم دیگر رہنماؤں کی ممکنہ گرفتاریوں، ان کی عدالتوں میں پیشی اور آئندہ حکمت عملی کے بارے میں حتمی صورتِ حال متعلقہ اداروں کے باضابطہ اعلانات اور عدالتی کارروائی سے ہی واضح ہو سکے گی۔

