اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)میں اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، ٹیکس گیپ پر قابو پانے کے لیے ادارے کی استعدادِ کار میں مسلسل بہتری لائی جائے۔ایف بی آر کے امور پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں جاری اصلاحات کی تازہ ترین پیشرفت اور اب تک کے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو ایف بی آر میں ٹیکنالوجی، نظامِ کار اور افرادی قوت کے شعبوں میں جاری اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر میں اصلاحات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، موثر تربیت، شفافیت اور جوابدہی پر خصوصی توجہ دی جائے جبکہ ٹیکس وصولی کے شعبوں میں فیس لیس نظام کے نفاذ کو تیز کیا جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ ایف بی آر افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی توقعات کے مطابق اپنی کارکردگی بہتر کریں، جاری اصلاحات ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہیں اور ان کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔وزیراعظم نے ایف بی آر میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانے والے افسران اور عملے کو اصلاح کا موقع دیا جائے، تاہم بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے والوں کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ جی ڈی پی کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے، ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کے نئے افسران کو لمز میں تربیت دی جا رہی ہے جبکہ پہلے سے خدمات انجام دینے والے افسران کے لیے دورانِ ملازمت تربیتی پروگرام بھی جاری ہیں، افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے پیئر ریٹنگ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کی آڈٹ کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے 957 آڈیٹرز کو میرٹ کی بنیاد پر تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کے طور پر کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا ہے، جس سے آڈٹ کی استعدادِ کار میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔بریفنگ کے مطابق ایف بی آر کی تکنیکی بنیادوں پر وسیع پیمانے پر تنظیمِ نو جاری ہے جبکہ مہارت یافتہ تکنیکی افرادی قوت کی بھرتی اور کارکردگی سے منسلک مراعات کا نظام بھی متعارف کرایا جا چکا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔دریں اثناء وفاقی وزارت تعلیم اور گوتھ اے آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا،جس میں گوتھ اے آئی نے پاکستانی اساتذہ کیلئے چار ہزار فری پریمیئم سبسکرپشنز فراہم کرنیکا اعلان کیا ہے۔پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اورجدید تعلیمی سہولتوں کے فروغ کیلئے وفاقی وزارتِ تعلیم اورگوتھ اے آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے خصوصی شرکت کی۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اورجدید ٹیکنالوجی سے مستفید کرنے کے لیے پرعزم ہے،طلبہ کی تعلیم اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو خوراک،رہائش،مفت یونیفارم اور جدید تعلیمی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں،دانش اسکول معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیمی انقلاب لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، دانش اسکولوں کی تعمیر میں معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔شہبازشریف کاکہنا تھاکہ جدید تدریسی طریقوں کے ذریعے تعلیمی شعبے میں مزید بہتری کے مواقع تلاش کیے جائیں گے،گوتھ اے آئی کی جانب سیپاکستان کے لیے چار ہزارمفت سبسکرپشنز کی فراہمی قابلِ تحسین ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ گوتھ اے آئی کیساتھ یہ شراکت داری پاکستان کی ترقی اورخوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گی،جبکہ اس اقدام سے طلبہ،اساتذہ اور نوجوان نسل کے لیے ترقی کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔دریں اثناء گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف کا (آج) منگل کو دورہ پشاور پر پہنچنے کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد دورہ کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعظم کے دورہ پشاور کی تصدیق کی اور کہا کہ توقع ہے کہ وہ منگل کو پہنچیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دورہ پشاور میں وزیر اعظم امن وامان کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں وزیر اعظم کو دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج کی سرکوبی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گااور اس میں صوبے کی سکیورٹی ضروریات سے بھی آگاہ کیا جائے گا ۔وزیر اعظم ضم اضلاع اور 4 جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے خاتمے اورپائیدار امن اور ترقی کے لئے قائم ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے اراکین سے بھی ملاقات کریں گے اور انہیں فرائض اور ترجیحات سے آگاہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق گورنر وزیر اعظم کو خیبر پختونخوا میں گندم و آٹے کی کمی، گیس اور بجلی لوڈ شیڈنگ، امن وامان، انفراسٹرکچر سمیت دیگردرپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کیلئے وزیراعظم آزاد کشمیر کو وزیراعظم ہاس طلب کر لیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں آزاد جموں و کشمیر کی مجموعی صورتحال اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر مسلم لیگ ن کی آزاد جموں و کشمیر میں ابتدائی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دیں گے۔
شہباز شریف
