واشنگٹن، تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکہ نے ایران کے بحری اڈے پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں2اہلکار زخمی ہوگئے، ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرانے کیلئے کوششیں تیز ہوگئی ہیں، اس سلسلہ میں روسی وزیر خارجہ تہران جبکہ فرانسیسی صدر یو اے ای پہنچ گئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے امریکا کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ایک ٹینکر جہاز میں آگ لگ گئی۔ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ سے نمٹنے کے معاملے میں بہت سی غلطیوں اور بنیادی نوعیت کی متعدد ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے ۔امریکی فورسز نے ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع کونارک بحری اڈے پر دو گولے مارے جس کے نتیجے میں 2ایرانی فوجی زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی بحریہ نے تصدیق کی کہ امریکا نے صوبہ سیستان و بلوچستان میں واقع بحری تنصیب پر کیا ۔ یہ اڈہ ایک بڑے فوجی کمپلیکس کا حصہ ہے اور بحیرہ عمان کے ساحل کے قریب واقع ہے۔ایرانی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فورسز نے حملے میں دو ہلکے نوعیت کے گولے استعمال کیے۔ امریکی حملے کا اصل ہدف 35ملی میٹر کی توپ تھی۔بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ توپ کو کتنا نقصان پہنچا اور آیا حملے میں بحری اڈے کی دیگر تنصیبات بھی متاثر ہوئیں یا نہیں۔امریکا کے ایرانی بحریہ کے اڈے پر حملے میں 2 فوجی زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت اور زخموں کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔کونارک بحری اڈہ ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہونے کے باعث بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب بحری سرگرمیوں کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔دریں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے بعد اپنے پہلے دورے پر تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔روسی خبر رساں اداروں کے مطابق سرگئی لاوروف اتوار کو بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد آج (پیر)کو تہران پہنچے ہیں۔خیال رہے کہ خلیجی ممالک نے بحرین میں ہونے والے اجلاس کے دوران روس پر زور دیا تھا کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے خطے میں حملے روکنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے جہاں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ان کا استقبال کیا۔عرب میڈیا کے مطابق ایمانوئل میکرون کی ابوظہبی آمد پر ہوائی اڈے پر باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات اور فرانس کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ اعزازی دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ایمانوئل میکرون کا یہ دورہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی عالمی منڈی کو درپیش مشکلات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔اس دورے کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے اور توانائی کی فراہمی کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے علاقائی رہنماؤں سے مشاورت کرنا ہے۔فرانس خلیجی ممالک کے ساتھ دفاع، سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔میکرون کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیجی ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے امریکا کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پچھلی بار جب آپ نے کام تمام کرنا چاہا تو ایران پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوکر ابھرا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ آپ دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو ضرور آزمائیں، مگر محتاط رہیں، ہمارے بھی کچھ کام ادھورے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ چاہے اسرائیل کے لیے نتائج کچھ بھی نکلیں، امریکی صدر کے لیے نتائج کی تو بات ہی چھوڑیے۔دریں اثناء ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ایک ٹینکر جہاز میں آگ لگ گئی۔اپنے بیان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آئل ٹینکر میں دھماکہ بھی ہوا ہے تاہم جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ سے نمٹنے کے معاملے میں بہت سی غلطیوں اور بنیادی نوعیت کی متعدد ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے۔انہوں نے یہ بیان جنگ کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے جانی و معاشی نقصانات کے حوالے سے امریکی نیوز چینل کے ایک خصوصی عوامی پروگرام میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے دیا ہے۔جے ڈی وینس نے امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی کے حوالے سے اعتراف کیا کہ اس معاملے میں خامیاں موجود تھیں۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات معلومات مجھ تک نہیں پہنچ پاتیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہر ناکامی کو انتہائی سنجیدگی سے لیں گے۔امریکی نائب صدر نے تسلیم کیا کہ امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے طریقہ کار نے فوجی حکمتِ عملی کی بعض کمزوریوں کو نمایاں کیا۔ان کے بقول میں جانتا ہوں کہ بعض معاملات میں مثلا فوجیوں کو جہاں تعینات کیا گیا تھا وہاں ہم نے محسوس کیا کہ یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی اور اس میں بہتری لائی جا سکتی تھی۔
ایران
بریکنگ نیوز
- یہ نصف صدی کا قصہ دو چار برس کی بات نہیں
- راولپنڈی:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح طامی البقمی ملاقات کررہے ہیں۔
- فیلڈ مارشل سے سعودی سفیر کی ملاقات علاقائی سلامتی کی صوتحال پر تبادلہ خیال
- حوثیوں کا یمنی فورسز کے کیمپ پر حملہ 55 اہلکار جان بحق ریاض ائیر پورٹ حملوں میں 17 پاکستانی زخمی
- حوثیوں کے حملے کے بعد یمنی فورسزکے تربیتی کیمپ سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔
- امریکہ کا ایرانی بحری اڈے پر حملہ 2 اہلکار زخمی روسی وزیر خارجہ تہران فرانسیسی صدر یو اے ای پہنچ گئی
- جبری مشقت سے انکار ٹھیکیدار نے یتیم لڑکے کو گاڑی تلے کچل کر مار ڈالا ملزم گرفتار
- حرمین شریف کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ترجمان پاک فوج
- شہباز شریف کا ایف بی آر میں اصلاحات تیز بد عنوانوں کیخلاف کاروائی کا حکم
- پنجاب کی ترقی کا نیا روڈ میپ پیوٹ کابینہ میں پیش مریم نواز کا ہسپتالوں میں طبی الات فعال کرنے کیلئے واجبات ادائیگی کا حکم
- ملتان :یتیم لڑکا بھاگتے ہوئے ، تعاقب کرتی گاڑی ، موت کا ذمہ دار ٹھیکیدار توقیر نذیر ، آخر میں بچے کی ڈیڈ باڈی ، پائوں میں سوفٹی چپل سے غربت نمایاں ہے
- پاکستان اور لتھوانیا کا سیاسی مشاورت کے آٹھویں دور کا ورچوئل کا انعقاد، تعاون بڑھانے پر اتفاق
- اسحاق ڈار کی تاجک وزیراعظم کے عشائیے میں شرکت
- اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہبازشریف لائیو سٹاک کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
- دوشبنے:نائب وزیراعظم اسحاق ڈارتاجکستان کے وزیراعظم کوہیر رسول زادہ سے سے مصافحہ کررہے ہیں۔
- سینیٹ میں ارکان سینیٹ کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور
- پاک فوج کی قربانیوں پر کوئی شک نہیں ہمارے فوجی بڑی دلیری کیساتھ لڑہے ہیں نواز شریف
- فرانس میں پرتشدد مظاہروں کے بعد جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان
- سرکاری حج سکیم،واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کیلئے آج آخری دن
- عدالتی سمجھوتہ کی درخواست مسترد نائن الیون حملے پر شیخ خالد محمد کو سزائے موت سنائے جانے کا امکان
