ریاض ، صنعا ( مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) حوثیوں نے یمنی فورسز کے تربیتی کیمپ پر میزائل حملہ کیا جس کے نتیجہ میں 55 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ادھر ریاض ایئر پورٹ پر حوثی حملوں میں 17 پاکستانی زخمی ہوئے جن میں 5 واتین بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری کردیا ہے جبکہ سعودی وزیرِ دفاع نے اماراتی صدر سے ملاقات میں علاقائی صورتحال و سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یمن کے صوبے شبوہ میں حوثی جنگجوؤں کے تین بیلسٹک میزائل حملوں میں 53سے زائد افراد ہلاک اور 100سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔حملے میں سرکاری فورسز کے تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملے کا نشانہ شبوہ میں واقع العلم فوجی کیمپ بنا، جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز تعینات ہیں۔یمنی فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے تصدیق کی کہ حوثیوں نے مرکزی ٹریننگ کیمپ میں 3بیلسٹک میزائل داغے تھے جہاں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ابتدائی اطلاعات میں 30سے زائد ہلاکتوں اور 70افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی تاہم بعد ازاں حکام نے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 53اور زخمیوں کی تعداد 100سے زیادہ بتائی۔بعض دیگر ذرائع نے اس سے زیادہ جانی نقصان کی اطلاع بھی دی ہے۔صوبائی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں زخمی ہونے والوں کے باعث مقامی ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا جبکہ شدید زخمیوں کو دوسرے صوبوں کے طبی مراکز منتقل کرنا پڑا۔یمنی فوج کے ایک ذریعے نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ حملہ حوثیوں کی ممکنہ زمینی کارروائی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر المخا میں ہوا تھا۔فوجی ذریعے کے مطابق حوثیوں نے اتوار کو شبوہ کو اپنے زیر کنٹرول صوبے البیضا سے ملانے والی سڑک بھی بند کردی تھی جس سے مقامی آبادی کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ادھر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے دو حملوں میں 17پاکستانی شہری زخمی ہوگئے، جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے دو حملوں میں 17پاکستانی شہری زخمی ہوگئے، جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔زخمی ہونے والے پاکستانیوں میں سے 15 کوہسپتالوں سے ڈسچارج کردیا گیا ہے، جبکہ دو تاحال زیرِ علاج ہیں۔پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے پہلے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے تھے۔اس حملے میں متعدد افراد متاثر ہوئے تھے، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ذرائع کے مطابق 11 اکتوبر کو ریاض ایئرپورٹ پر دوسرا حملہ ہوا، جس میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں حملوں میں زخمی ہونے والے پاکستانی شہریوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان میں سے 15 افراد صحت یاب ہونے کے بعد اسپتالوں سے فارغ ہوچکے ہیں، جبکہ دو پاکستانی شہریوں کا ریاض کے اسپتال میں علاج جاری ہے۔حملوں میں پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے اور ایک شہری کی ہلاکت کے بعد متاثرہ افراد کی طبی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا۔عرب میڈیا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے 12 ممالک کے امریکی سفارت خانوں نے سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ الرٹ ایران اور یمن حوثی ملیشیا کے حملوں کے خطرات پر جاری کیا گیا۔سکیورٹی الرٹ میں اردن، عراق، ایران، یمن، لبنان اور شام سمیت خلیجی ممالک شامل ہیں۔امریکی حکام نے کہا کہ ایران اور اس کے حمایتی گروپ امریکی شہریوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، خطے میں امریکی شہری پروازوں کی منسوخی اور فضائی بندش سے متعلق باخبر رہیں۔حکام کا کہنا تھاکہ امریکی شہری مشرقِ وسطیٰ کے کشیدہ علاقوں کے سفر سے گریز کریں۔دریں اثناء سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے۔اماراتی خبر ایجنسی کے مطابق ابوظبی میں سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتِحال اور سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی وزیرِ دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ خطے کی صورتِ حال میں پیش رفت، تعاون بڑھانے اور مشترکہ خلیجی اقدامات سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔شہزادہ خالد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان سے بھی ملاقات کی۔
حوثی حملہ

