اسلام آباد (ملک منظور احمد) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور بازیابی کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 9 ہزار 200 ارب روپے مالیت کے اثاثے بازیاب کر لیے، جبکہ رواں سال کے دوران اب تک بازیاب کیے گئے سرکاری اثاثوں کی مجموعی مالیت 14 ہزار 600 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ نیب کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مارچ 2023 سے ستمبر 2026 تک مجموعی طور پر 26 ہزار 100 ارب روپے مالیت کے اثاثے بازیاب کیے جا چکے ہیں۔نیب کے مطابق سرکاری اراضی اور قومی اثاثوں کو غیر قانونی قبضوں سے واگزار کرانے کے لیے جاری اقدامات کے نتیجے میں پاکستان ریلویز کی 29 ہزار 453 ایکڑ قیمتی اراضی بازیاب کی گئی، جس کی مالیت 6 ہزار 780 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اسٹیٹ اثاثہ جات ٹاسک فورسز کی کارکردگی کے بعد پاکستان ریلویز اور نیب کے اشتراک سے علاقائی بیوروز کی سطح پر چھ مشترکہ ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں، جنہوں نے اراضی کی نشاندہی، واگزاری اور تحفظ کے لیے اقدامات کیے۔جاری کردہ اعلامیے کے مطابق محکمہ جنگلات، محکمہ مال اور محکمہ شاہرات سمیت مختلف صوبائی محکموں کی 8 لاکھ 66 ہزار 299 ایکڑ اراضی بھی بازیاب کرائی گئی، جس کی مالیت 2 ہزار 395 ارب روپے ہے۔ تیسری سہ ماہی میں اثاثوں کی بازیابی پہلی دو سہ ماہیوں کے مقابلے میں تقریبا 70 فیصد زیادہ رہی۔ پہلی دو سہ ماہیوں کے دوران 5 ہزار 410 ارب روپے مالیت کے اثاثے بازیاب کیے گئے تھے۔علاقائی سطح پر نیب سکھر نے صوبائی محکمہ مال کی 51.41 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت ایک ارب 14 کروڑ روپے ہے، بازیاب کی۔ اس کے علاوہ کراچی ڈویژن کے اہم شہری علاقوں کے قریب پاکستان ریلویز کی ایک لاکھ 79 ہزار 72 کنال اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 5 ہزار 60 ارب روپے بتائی گئی ہے۔نیب بلوچستان نے محکمہ جنگلات کی غیر قانونی قبضے اور ناجائز استعمال میں موجود 8 لاکھ 11 ہزار 967 ایکڑ اراضی بازیاب کی، جس کی مالیت ایک ہزار 710 ارب روپے ہے۔ اسی طرح نیب ملتان نے محکمہ مال، محکمہ جنگلات اور محکمہ شاہرات کی 43 ہزار 28 ایکڑ اراضی، مالیت 102 ارب 97 کروڑ روپے، جبکہ پاکستان ریلویز کی 49 ہزار 426 کنال اراضی، مالیت ایک ہزار 560 ارب روپے، بازیاب کی۔نیب لاہور نے صوبائی حکومت کی 4 ہزار 380 ایکڑ قیمتی اراضی واگزار کرائی، جس کی مالیت 563 ارب 7 کروڑ روپے ہے، جبکہ پاکستان ریلویز کی 7 ہزار 124 کنال اراضی بھی بازیاب کی گئی، جس کی مالیت 156 ارب 10 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ نیب خیبر پختونخوا نے محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی 6 ہزار 872 ایکڑ اراضی بازیاب کی، جس کی مالیت 16 ارب 16 کروڑ روپے ہے۔اعلامیے کے مطابق بحریہ ٹان اور کوہستان اسکینڈل سے متعلق مقدمات میں نیب اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے پلی بارگین کے ذریعے 2 ارب 22 کروڑ روپے بھی بازیاب کیے گئے۔نیب نے متاثرین کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تیسری سہ ماہی کے دوران 4 ہزار 280 متاثرین کے بینک اکانٹس میں 90 کروڑ 84 لاکھ 20 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔ اس اقدام کا مقصد متاثرین کو مالی نقصان کے ازالے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ادارے نے انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو مزید مثر بنانے اور ادارہ جاتی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ دو مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے، جبکہ بین الاقوامی ہم منصب اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے مزید مفاہمتی یادداشتوں پر غور جاری ہے۔نیب نے ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی نظام نیب آئی بھی متعارف کرایا ہے۔ نیب کے مطابق اس نظام کا مقصد انسانی مداخلت کے باعث پیدا ہونے والی غلطیوں اور صوابدیدی عوامل کو کم کرنے کے ساتھ تحقیقاتی کارروائیوں کی رفتار اور مثریت میں اضافہ کرنا ہے۔افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی نے بھی تیسری سہ ماہی کے دوران مختلف تربیتی سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں تین خصوصی کورسز، استعدادِ کار میں اضافے کا ایک کورس، ایک ورکشاپ، ایک تعلیمی پروگرام اور ایک ترقیاتی کورس شامل ہیں۔نیب کے مطابق ادارہ بدعنوانی کے خلاف قانونی کارروائی، انسدادی اقدامات، عوامی آگاہی اور ناجائز طور پر حاصل کیے گئے سرکاری اثاثوں کی بازیابی پر مشتمل جامع حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔ ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سرکاری وسائل کا تحفظ، شفافیت کا فروغ، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا اس کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
