اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا ایران کے ساتھ اجلاس خوش آئند اور علاقائی تعاون کی جانب اہم پیش رفت ہے،جماعت اسلامی ابتدا ہی سے ایران سمیت دیگر مسلم ممالک کی اس اتحاد میں شمولیت کی حامی رہی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ تہران میں ہونے والی ملاقات خطے میں جنگ اور تصادم کے خطرات کم کرنے کا اہم موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں کا مؤثر جواب وسیع تر مسلم اتحاد، مشترکہ حکمت عملی اور علاقائی تعاون میں ہی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا اپنے مستقبل اور سلامتی کے فیصلے خود کرے، نہ کہ امریکہ یا اسرائیل اس کی تقدیر طے کریں۔دریں اثناء امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج نے کشمیر میں داخل ہو کر اس پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، جو 79 سال گزرنے کے باوجود برقرار ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان و کشمیر لازم و ملزوم ہیں۔ کشمیری عوام بھارتی قبضے کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی مرحوم و مغفور کا نعرہ ”ہم پاکستانی، پاکستان ہمارا” کشمیری و پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کشمیری عوام حق خود ارادیت کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کا خون ضرور رنگ لائے گا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے عوام اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ کشمیری عوام بھارتی قبضے کے خلاف اپنی لازوال جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھی جائے گی اور کشمیر سے بھارتی قبضہ ختم کرانے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔
حافظ نعیم
