لام آباد (حبہ عباسی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ہنگامہ خیز اجلاس میں لرزہ خیز انکشافات نے پورے ملک کے لیے ایک بھیانک سائرن بجادئیے۔این سی سی آئی اے حکام نے کمیٹی کے سامنے لرزہ خیز اعتراف کیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ڈکیتیوں کا ایسا خوفناک طوفان آ چکا ہے جس کے سامنے پورا ریاستی نظام گھٹنے ٹیک چکا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں ملک کے معصوم شہریوں کو 2 لاکھ 27 ہزار 757 سائبر حملوں کا نشانہ بنا کر سوا 8 ارب روپے کا تاریخی چونا لگایا گیا، جبکہ پورا سکیورٹی نیٹ ورک اب تک بمشکل پونے تین ارب روپے ہی واگزار کرا سکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 24 کروڑ کے ملک کی ڈیجیٹل سکیورٹی صرف 500 اہلکاروں کے رحم و کرم پر چھوڑی گئی ہے، جو منظم انٹرنیشنل مافیا کے سامنے بالکل بے بس کھڑے ہیں۔ اجلاس اس وقت حکومتی نااہلی کا کھلا اشتہار بن گیا جب سینیٹر قرة العین مری نے انکشاف کیا کہ دو ارکانِ پارلیمنٹ فرحان چشتی اور شہریار مہر کے فون اچانک بلینک ہو گئے اور بغیر کسی او ٹی پی یا پن کوڈ کے، ٹیلی کام کمپنیوں کی مجرمانہ ملی بھگت سے ان کی جعلی ڈپلیکیٹ سمیں نکال کر سیکنڈوں میں بینک اکاؤنٹس صاف کر دیے گئے۔ اراکین نے کڑے سوالات اٹھائے کہ جب بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر ملک میں ایک عام شہری کو سم نہیں ملتی، تو مافیا کے لیے بائیو میٹرک کے جعلی سلیکون نشانات کس جادو سے تیار ہو رہے ہیں؟ ۔بیوروکریسی کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ اسلام آباد میں ”گولڈن باکس” نامی رجسٹرڈ گینگ سرعام معصوم لوگوں کو لوٹتا رہا، اور چینی سفارت خانے کے ساتھ ہونے والے ایک بڑے فراڈ کی کڑیاں کمبوڈیا میں بیٹھے عالمی نیٹ ورک سے جا ملیں، جس پر سینیٹر مسرور احسن نے حکام کے منہ پر سچ بولتے ہوئے وارننگ دی کہ بھارت ہمارا حساس ترین ڈیٹا لے کر بیٹھا ہے اور ہمارے ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ چیئرپرسن ثمینہ زہری نے ڈی جی این سی سی آئی اے علی ناصر رضوی کی اس نازک صورتحال پر عدم موجودگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں باقی تمام مصروفیات چھوڑ کر اگلے اجلاس میں کٹہرے میں پیش ہونے کا سخت حکم جاری کر دیا ہے۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں وزارتِ خارجہ کی روایتی بے حسی اور صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے بحری جہاز”ایم ٹی آنر25” کے مظلوم پاکستانی عملے پر ٹوٹنے والی قیامت کا بھیانک سچ سامنے آیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صومالی ڈاکوؤں کی وحشیانہ قید میں تین پاکستانی ملاح تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہو چکے ہیں کیونکہ ریاست بروقت ایکشن لینے میں بری طرح ناکام رہی۔ کمیٹی میں یہ شرمناک حقیقت بھی سامنے آئی کہ اغوا ہونے والے جہاز کے غیر ملکی مالک کو پاکستانی شہریوں کی زندگیوں سے زیادہ اپنے جہاز اور مہنگے تیل کے تحفظ کی فکر تھی، جس نے مغویوں کو 9 ماہ تک تنخواہوں سے بھی محروم رکھا اور ان کے خاندان دانے دانے کو ترستے رہے جبکہ وزارتِ خارجہ صرف فائلیں کالی کرتی رہی۔ کمیٹی ممبر سید مسرور احسن نے ملکی قوانین کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان میں زخمی یا ذہنی اذیت کا شکار ہونے والے ملاحوں کے لیے معاوضے کا کوئی قانون ہی موجود نہیں ہے۔ اراکین نے وزارتِ خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پوچھا کہ صومالی سفیر کو طلب کر کے اب تک سخت احتجاج کیوں نہیں کیا گیا؟ ۔کمیٹی نے سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے حکام کو اگلے اجلاس میں مکمل ریکارڈ سمیت طلب کر کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
ڈیجیٹل ڈکیت
