لاہور(کر ائم رپو رٹر)پنجاب حکومت نے صوبے میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے، تیار کرنے اور فروخت کرنے کی روک تھام کے لیے قوانین مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں 61 سال پرانے پنجاب آرمز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کرکے پنجاب آرمز ترمیمی ایکٹ 2026 متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیمی قانون میں نئی دفعہ 14اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت غیر قانونی اسلحے سے متعلق مقدمات کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا جائے گا، جبکہ ان مقدمات میں فریقین کے درمیان راضی نامے کی گنجائش بھی ختم کردی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کے تحت قتل، ڈکیتی یا راہزنی کے ساتھ غیر قانونی اسلحے سے متعلق مقدمات کی سماعت بھی ایک ہی عدالت میں کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کم ہو اور ملزمان کے خلاف مثر قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ مختلف عدالتوں میں زیر التوا غیر قانونی اسلحے کے مقدمات کو ایک مرکزی عدالت میں منتقل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ان مقدمات کی یکساں اور تیز رفتار سماعت یقینی بنائی جا سکے،وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے محفوظ پنجاب وین کے تحت پنجاب پولیس کی جانب سے غیر قانونی اسلحے کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران رواں سال ہزاروں ہتھیار اور لاکھوں گولیاں برآمد کی جا چکی ہیں
