غزہ،نیویارک(نیوز ایجنسیاں )غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں فلسطینی خواتین اور بچیوں
کی ہلاکتوں اور تباہ حال زندگیوں سے متعلق دل دہلا دینے والے اعداد و شمار سامنے آ گئے۔غزہ کی وزارت امور خواتین کے مطابق سات اکتوبر 2023سے اب تک 38ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں جبکہ 11ہزار 700دیگر ایسی شدید چوٹوں کا شکار ہوئیں جن کے نتیجے میں وہ مستقل معذوری سے دوچار ہو گئیں۔وزارت کے مطابق مجموعی طور پر 50ہزار خواتین اور بچیاں اس تباہی سے متاثر ہوئی ہیں، فلسطینی خواتین کے قومی دن کے موقع پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں ایک لاکھ سے زائد خواتین بے گھر ہوئیں جبکہ ہزاروں خواتین اپنے شوہروں سے محروم ہو چکی ہیں۔دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر دو ہزار پچیس میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملے جاری رہے، جن میں کم از کم ایک ہزار 551فلسطینی شہید اور پانچ ہزار 573زخمی ہو چکے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ نے 7 اکتوبر کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پہلے اسرائیلی انتخابات کے موقع پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن نے دعوی کیا کہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں انسانیت کے خلاف قتل و غارت، ظلم و ستم، تشدد، عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام کا ارتکاب کیا ہے ۔رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور غزہ میں نام نہاد جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی نسل کشی کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے۔
فلسطینی خواتین
