اسلام آباد، لاہور ( نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اختلاف رائے پر آپ ہمارے خلاف ہوگئے ، ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا۔ دریں اثناء فضل الرحمن کی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات میں چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پر اتفاق ہوگیا۔ قبل ازیںپی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ بانی پی آئی عمران خان 100 سال جیل گزار سکتے ہیں مگر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ایمرجنسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں لے جانا چاہیئے، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کیلئے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کیلئے تیار نہیں،ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے،ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا۔ قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی اور خراب حالات کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹا کر وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، تو پھر بلوچستان میں بھی حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں، لہٰذا اگر یہی اصول ہے تو وہاں بھی گورنر راج لگایا جانا چاہیئے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے حکومت سے بات چیت کی تھی جس کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن سے لانگ مارچ موخر کرنے کا کہا تھا، اپوزیشن نے اس پر مثبت جواب دیا اور ان کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کا علاج کرانا شامل تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ابتدائی طور پر وزیراعظم کی جانب سے اس پر مثبت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا، لیکن بعد میں صبح ساڑھے دس بجے اسحاق ڈار نے مجھے آگاہ کیا کہ حکومت نے ان مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے، سیاست اور جمہوریت کا بنیادی اصول باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم ہے، لیکن بدقسمتی سے ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا اور اختلافِ رائے کرنے پر ہمارے خلاف رویہ اپنایا گیا۔انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ریاست کو ماں جیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے، جب تک مجھے مکمل اطمینان نہ ہو تو میں تذبذب کی حالت میں کوئی موقف اختیار نہیں کرتا، اور جمہوریت کی بقا کے لئے بات چیت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، اگر ہم اپنے ساتھیوں کو احترام نہیں دیں گے تو عوام سے کیا توقع رکھیں گے، میں 5 برس پہلے کے حالات سے موازنہ کرتا ہوں تو سب کچھ خواب کی طرح لگتا ہے۔دریں اثناء مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کی قیادت سے اہم ملاقات کی اور چارٹر آف ڈیمو کریسی کی تجویز پیش کی جس پر پی ٹی آئی نے اتفاق کیا، اس حوالے سے جلد اے پی سی بلائی جائے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے وفد کے ہمراہ قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال، آئینی و جمہوری امور اور اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون پر گفتگو ہوئی۔شرکا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کی۔ شرکا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو عوام کی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔شرکا نے پی ٹی آئی کے گرفتار وزیراعلی، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی، شرکا نے مولانا فضل الرحمن کے نئے میثاقِ جمہوریت کے مقف کی حمایت کی۔شرکا نے اتفاق کیا کہ موجودہ قومی بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں ایک نئے میثاقِ جمہوریت کی جانب پیش رفت کریں، شرکا نے مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کو نئے میثاقِ جمہوریت کی سمت ایک اہم ابتدائی قدم قرار دیا۔پی ٹی آئی وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، بیرسٹر علی ظفر، عامر محمود ڈوگر، زین قریشی اور آخوندزادہ حسین احمد یوسفزئی شامل تھے جب کہ جے یو آئی (ف) کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، میر یونس ظہری اور عثمان بادینی شامل تھے۔مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا، بعدازاں پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کے چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پر اتفاق کرلیا۔ بیٹھک کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں شرائط کیا ہوں گی یہ مشاورت سے تیار کیا جائے گا، ابھی مولانا صاحب نے تجویز دی ہے چارٹر آف ڈیموکریسی کی اس پر ہم مشاورت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں امن ہونا چاہیے، امن کے لیے ہر اسٹیک ہولڈر کو ساتھ لے کر چلیں گے، ہم ان کی تجویز پر مشاورت کر رہے ہیں، سوچ کر مشاورت کرنے کے بعد ان کا ساتھ دیں گے۔میڈیا ٹاک میں اسد قیصر نے کہا کہ حکومت معاشی، انتظامی اور گورننس کے محاذ پر مکمل ناکام ہو چکی ہے، مولانا فضل الرحمان نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز دی ہے، اسی حوالے سے ہم آل پارٹیز کانفرنس بلانے جارہے ہیں، تاریخ ابھی کنفرم نہیں ہے 9 اور 10 نومبر کو بلانے پر غور جاری ہے۔قبل ازیں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ بانی پی آئی عمران خان 100 سال جیل گزار سکتے ہیں مگر سمجھوتہ نہیں کریں گے،پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اورگورنر راج رول بیک کرانے کیلئے کردارادا کرے گی۔ پا رلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں 28ویں آئینی ترمیم پر کوئی خاص بات ہوئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ یا تجاویز سامنے آئیں۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل ایک دوسرے کو سننے اور ساتھ بیٹھنے سے حل ہوتے ہیں۔ بحران ختم کرنے کے نام پر مزید بحران پیدا کرنا سیاسی طرز عمل نہیں۔ ملک کے حالات بہتر بنانے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے۔بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان 100 سال جیل گزار سکتے ہیں۔ مگر کسی ڈیل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تاہم سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات اور قید کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی ادارے یا اس کے سربراہ سے محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ہم ہم اداروں کے احترام اور ان کے وقار کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں گے۔ موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ کے علاوہ ہمارے پاس اور کیا راستہ رہ گیا تھا۔ ہم دنیا کے سامنے ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہمارا مارچ پر امن ہوگا۔ حکومت لانگ مارچ کی اجازت دے، تو اس کو لوگوں کے پر امن ہونے کا اندازہ ہوجائیگا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر کسی صوبے کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ کسی بھی معاملے پر جذباتی فیصلے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی بھی ترمیم پر بات چیت پارلیمنٹ پر چھوڑنی چاہیے، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی جلد اس حوالے سے اپنا لائحہ عمل دے گی۔ اس حوالے سے پارٹی کا موقف پہلے سے واضح ہے کہ متنازع قانون سازی سے گریز کیا جائے۔ دریں اثناء کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنمائوں نے کہا ہے کہ حکومت نے آئین اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا، عدلیہ کو تباہ کیا ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے قومی مفاہمت، آئین کے احترام اور عوامی مینڈیٹ تسلیم کرنا ہو گا۔کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ ، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری نے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے بیان جاری کیا۔پی ٹی آئی رہنمائوں نے بیان میں کہا کہ پاکستان کا سیاسی منظرنامہ افسوسناک صورتحال اختیار کر چکا ہے، موجودہ حکومت منظم انداز میں آئین پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کے لیے غیر قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔رہنمائوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے عدلیہ کو تباہ کر دیا، پیکا ایکٹ کے ذریعے میڈیا کی آواز دبائی جا رہی ہے اور مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے، بیان میں پنجاب میں سی سی ڈی کے مقابلوں میں تین ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعوی بھی کیا گیا۔پی ٹی آئی رہنمائو ں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات کے باعث ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے، رہنماں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات شروع کرے، آئین کا احترام، قانون کی بالادستی اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا جائے۔
فضل الرحمن

