نیو یارک، واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) پاکستان اور چین نے ایران امریکا جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں بڑی تباہی کا انتباہ جاری کردیا ۔ امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ میری زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا، دوبارہ حملہ کرنا پڑا تو یقینا کروں گا۔ ادھر تہران نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق بیان سفارت کاری سے بے اعتناعی کا عکاس ہے۔ پاکستان اور چین نے ایران امریکا جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں بڑی تباہی کا انتباہ جاری کیا ہے ۔اقوام متحدہ میں قائم مقام پاکستانی مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا سفارتی حل پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ تمام فریق کشیدگی بڑھانے والے بیانات اور اقدامات سے گریز کریں۔عثمان جدون نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا حل مذاکرات اور سفارت کاری سے نکالا جائے۔ اس معاملے کو عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ذریعے حل کیا جائے اورآئی اے ای اے کو اپنے تکنیکی مینڈیٹ کے تحت بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع دیا جائے۔پاکستانی مندوب نے کہا پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے جوہری تنازع کا پرامن حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔دریں اثنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کے مستقل مندوب فوکانگ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کا حل صرف سفارت کاری ہے۔ جنگ ختم کرنے اور امریکا، ایران مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، موجودہ صورتحال کی بنیادی وجوہات میں امریکا کی جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں سے عالمی جوہری ادارے کی نگرانی متاثر ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران سے اپیل ہے وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم پر قائم رہے، جبکہ دیگر ممالک ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کا احترام کریں۔چنی مندوب فوکانگ نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے، دوبارہ جنگ شروع ہونے سے مشرق وسطی میں مزید تباہی پھیل سکتی ہے۔دریں اثناء امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی انتخابات کے بعد ایران حملوں سے متعلق خلیجی ممالک کو آگاہ کردیا ہے اور ممکنہ امریکی کارروائی میں ایرانی جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کا اضافی یونٹ اسرائیل منتقل کررہی ہے جبکہ ایک اضافی طیارہ بردار بحری بیڑے کاجنگی گروپ اورمیرینزدستہ بھی شامل ہونے کیلئے تیار ہے۔وال اسٹریٹ جنرل کا کہناہے کہ امریکی حملوں کی صورت میں ایران نے جوابی حملوں کا انتباہ دیا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے دوبارہ حملوں کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ ایران 1979سے امریکا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔ریاست ٹیکساس میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ میری زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک ہے، اگر ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑا تو یقینا کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں میری بڑی کامیابیوں میں سے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی بلکہ ایران 1979 سے امریکا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔انہوں نے تہران پر ہزاروں امریکی فوجیوں کو ہلاک کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی رہنمائو ں کو کئی دہائیوں قبل ایران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی لیکن ان میں ایسا کرنے کی ہمت یا دانش مندی نہیں تھی۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ ہو رہا ہے اور اشارہ دیا کہ اس آبی گزرگاہ کا نام جلد تبدیل کرکے آبنائے ٹرمپ رکھا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں جلد نمایاں کمی آئے گی، موجودہ معاشی مشکلات عارضی ہیں، مستقبل میں فوائد سامنے آئیں گے۔ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی سفارتکاری سے بے اعتنائی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے، صدر ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ انہیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت(ایم او یو ) پر کبھی یقین نہیں تھا اور وہ اسے وقت کا ضیاع سمجھتے تھے، ان کے سفارتی وعدوں کی کھوکھلی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ واشنگٹن کی وعدوں سے انحراف کی ایک طویل تاریخ ہے اور جب بھی بین الاقوامی ذمہ داریاں اس کیلئے غیر موزوں ہو جاتی ہیں، وہ انہیں نظرانداز کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک اور واشنگٹن کے دیگر حامیوں کے پاس امریکی بدعملی پر پردہ ڈالنے اور اسے جواب دہی سے بچانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ وعدہ خلافیوں کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، بین الاقوامی قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی سیاسی بیانیے بازی کے ذریعے واشنگٹن کو جواب دہی سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے ۔ادھر امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ پر امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں جو جولائی میں لگائے گئے تخمینے سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔قبل ازیںاقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے )کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا تاہم جوہری تنصیبات کی مرمت یا بحالی کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے قطر کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق قطری ثالثوں نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے۔ یہ تجویز اتوار کو تہران کے سامنے رکھی گئی تھی جس پر ایرانی قیادت غور کر رہی ہے۔توقع ہے کہ ایران رواں ہفتے کے اختتام تک قطر کی تجویز پر اپنا جواب دے گا۔ یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایران امریکہ جنگ
