Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • شہر میں سموگ کے ڈیرے، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پھر پہلے نمبر پر
    • برائلر گوشت کی قیمت میں8روپے کلو اضافہ
    • ایل پی جی قیمتوں کا فارمولہ پٹرولیم مصنوعات کی طرز پر طے کرنیکا فیصلہ
    • فرانس’ سفارتخانہ میں یوم سیاہ کشمیر کی تقریب’ کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی
    • مضبوط ‘ خوشحال پاکستان کے3 نکاتی ایجنڈے پر سب کو مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی:طارق فضل
    • سی ای او شمع گروپ انٹرنیشنل کی چیئرمین او پی ایف سے ملاقات
    • کٹار بند روڈ انڈسٹریل ایسوسی ایشن کا کٹار بند روڈ کی تعمیر کا مطالبہ
    • ایران جنگ کی وجہ سے امریکہ میں مہنگائی ہوئی: ڈیموکریٹک رکن کانگریس
    • وزیرآبی وسائل’ چیئرمین واپڈا کا دیامر بھاشا ڈیم’ داسو پراجیکٹ کا دورہ
    • ارفع کریم ٹاور میں سندھ پولیس کے 33 زیر تربیت ڈی ایس پیز کیلئے 2 روزہ آئی ٹی تربیتی سیشن
    • پاکستان میں ٹریکٹروں کیلئے خودکار ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی تیاری
    • لاہور ہائیکورٹ:سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست’ ریکارڈ سمیت 3 نومبر کو طلب
    • پاکستان کا خلیجی جنگ میں لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ
    • وزیر قانون سے آذر بائیجان کے سفیر کی ملاقات
    • پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ستمبر 2026 میں 435ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، بیرسٹر دانیال چوہدری
    • PIA کی بین الاقوامی فضائوں میں واپسی کا سفر اہم مرحلے میں داخل
    • کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پْرعزم ہیں، سینیٹر نیلوفر بختیار
    • پنجاب: نرسری تا پانچویں جماعت کے نئے نصاب کی کتابوں پر نظرثانی کا فیصلہ
    • ایران سے پشاور کے شہری کو اغوا کرنیوالے ملزمان افغان شہری نکلے ‘ اغوا کاروں کی گرفتاری کیلئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے:ایف آئی اے حکام
    • پنجاب میں زرعی انقلاب کیلئے مریم نواز کے 10 بڑے اعلانات سالگرہ کا دن کسان بھائیوں کے نام
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے 9 دہشتگرد ہلاک

    By Khabrain Newsاکتوبر 29, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    راولپنڈی، اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں انٹیلی جنس آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان کے 9دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ صدر ، وزیر اعظم نے سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ رواں سال ملک بھر میں 5143آپریشنز کے دوران2410 دہشت گرد مارے گئے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 26اکتوبر 2026 کو بلوچستان کے اضلاع کچھی اور وڈھ میں سکیورٹی فورسز کے دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 9دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کچھی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کر دیا گیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 7دہشت گرد ہلاک ہوئے، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔ضلع وڈھ میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر انہیں موثر انداز میں روکا، فائرنگ کے تبادلے میں 2دہشت گرد انجام کو پہنچ گئے، ضلع وڈھ میں کارروائی کے دوران بھی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں ۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کارروائیاں جاری رہیں گی، قومی ایکشن پلان کی حکمتِ عملی کے تحت عزمِ استحکام کے وژن کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔دریں اثنا صدر مملکت آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے غیر ملکی سرپرستوں اور سہولت کاروں کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا، قوم اپنی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔دریں اثناء قومی اسمبلی میں وزارت داخلہ نے بتایاکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رواں سال میں ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف 5143آپریشنز کیے، جس کے نتیجے میں 2410دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ 5سال کے دوران 3لاکھ 26ہزار 341جعلی قومی شناختی کارڈ منسوخ کئے گئے۔قومی اسمبلی کے 30ویں سیشن کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارتِ داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان شہریوں نے دھوکادہی اور جعل سازی کے ذریعے پاکستانی قومی شناختی کارڈز حاصل کیے تھے جنہیں وزارت داخلہ نے منسوخ کیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے رواں سال کے پہلے ماہ کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریری جوب میں بتایا کہ یکم جنوری سے 29 ستمبرتک 5143 آپریشنز کئے گئے۔محسن نقوی نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں، 5143 آپریشنز میں 2410 دہشت گرد ہلاک،806 زخمی جبکہ 3518 گرفتار ہوئے تاہم ان لائن انتہا پسندانہ مواد کی روک تھام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔وزارت داخلہ کے مطابق 5 سال میں سوا 3 لاکھ افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ ہوئے، لاکھ 26ہزار 341 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز منسوخ کئے۔ ان افغان شہریوں کے شناختی کارڈذ کی قانونی حیثیت مشکوک تھی۔قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ وفاق اور صوبوں میں آن لائن خطرات سے نمٹنے کا کوئی منظم یا مربوط نظام نہیں، اداروں اور اوپن انٹیلی جنس سیلز کو تربیت یافتہ تجزیہ کاروں کی کمی کا سامنا ہے، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے پاس 24 گھنٹے نگرانی کی صلاحیت بھی نہیں۔وزارت داخلہ کے مطابق نیکٹا نے 27-2026 میں 2 ارب 98 کروڑ سے زائد کے فنڈز مانگے تھے، نیکٹا کو رواں سال کیلئے صرف 1 ارب 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے، نیکٹا انسداد دہشت گردی کا ایک قانونی ادارہ ہے، نیکٹا کے پاس گرفتاری یا قانون نافذ کرنے کے اختیارات نہیں، نیکٹا کو اب نیشنل کائو نٹر ٹیررازم ڈویژن بنایا جائے گا۔قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس صبح 11 بجے شروع ہوا جس کے آغاز پر ہی ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی جس پر وقفہ کیا گیا اور کورم پورا ہونے کے باقاعدہ کاررائی کا آغاز ہوا۔وقفہ سوالات کے آغاز پر سنی اتحاد کونسل کے رکن عمیر نیازی نے اسپیکر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے نشاندہی کی کہ حکومتی بینچز بالکل خالی پڑے ہیں اور پوری کابینہ میں سے صرف وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اکیلے ایوان میں موجود ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے ایوان کو پیپر لیس بنانے کے حکومتی منصوبے کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کو جدید بنانے کیلئے اراکین کو ٹیبلٹس تو فراہم کر دیے گئے لیکن انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور کاغذی ایجنڈا بھی موجود نہیں ہے، جس کے باعث اراکین اندھوں کی طرح کارروائی کا حصہ بننے پر مجبور ہیں۔ یا تو انٹرنیٹ سروس بحال کرا دیں، یا پھر کاغذ ہی دے دیں۔اس پرسپیکر نے کہا کہ انٹرنیٹ رولز کی خلاف وزری کی وجہ سے بند کیا گیا، ممبران ویڈیوز بناتے تھے اور خلاف ورزی ہو رہی تھی۔اس کے علاوہ اجلاس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)آرڈیننس 2026 میں مزید چار ماہ( 120 دن) کی توسیع کی قرارداد پیش کی گئی، جو اصل میں چیئرمین اوگرا کی تقرری سے متعلق جاری کیا گیا تھا۔وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا گیا کہ سلیکشن بورڈ نے مستقل چیئرمین کی تقرری کے لئے امیدواروں کے انٹرویوز کیے، تاہم کوئی مناسب امیدوار نہ ملنے کے باعث آرڈیننس میں توسیع کی ضرورت پیش آئی۔ قرارداد پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے تاخیر پر سخت اعتراضات اٹھائے، جبکہ پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر اور جے یو آئی (ف) کی شاہدہ اختر علی نے بھی قرارداد کی شدید مخالفت کی۔شاہدہ اختر علی نے نشاندہی کی کہ چیئرمین اوگرا کا قائم مقام چارج سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے، حالانکہ یہ چارج ادارے کے اندر موجود کسی افسر کو دیا جا سکتا تھا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے نوید قمر سے کہا کہ فی الحال اس قرارداد کو پاس ہونے دیں لیکن حکومت اس کو مثال بنائے کہ مستقبل میں مقررہ مدت کے اندر آرڈیننس پر قانون سازی کو یقینی بنائے گی۔بعد ازاں ایوان نے کثرتِ رائے سے اوگرا آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی۔علاوہ ازیں، ایوان نے اہم قانون سازی مکمل کرتے ہوئے نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ ترمیمی بل 2025، مرکز برائے کلینیکل سائیکالوجی سینٹرز ترمیمی بل 2026 اور ایریا اسٹڈی مراکز ترمیمی بل 2026 کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی۔ دوسری جانب، قومی فنڈ برائے ثقافتی ورثہ ترمیمی بل 2026 اور مالی انتظامات (Netting of Financial Arrangements) بل 2026 کو حتمی منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے کی تحاریک بھی کثرتِ رائے سے پاس کر لی گئیں۔قبل ازیں اسمبلی اجلاس پارلیمنٹ ہاس اسلام آباد میں 11 بجے شروع ہوا تھا جس کے آغاز پر ہی ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
    دہشت گرد

    Khabrain News

      Keep Reading

      شہر میں سموگ کے ڈیرے، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پھر پہلے نمبر پر

      برائلر گوشت کی قیمت میں8روپے کلو اضافہ

      ایل پی جی قیمتوں کا فارمولہ پٹرولیم مصنوعات کی طرز پر طے کرنیکا فیصلہ

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.