لاہور(ویب ڈیسک)انسداد دہشت گردی پشاور کی عدالت نے سانحہ 9مئی ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے اور توڑ پھوڑ کے کیس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی وزرا سمیت دیگر کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے۔نجی ٹی وی کے مطابق انسداد دہشت گردی پشاور کی خصوصی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9اور 10مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملہ کرکے وہاں توڑ پھوڑ اور املاک کو نذر آتش کرنے کے مقدمے میں غیرفعال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش ، پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر عرفان سلیم اور پی ٹی آئی کارکن عامر چمکنی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 4نومبر تک کے لئے ملتوی کردی۔مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ولی محمد نے کی جہاں ملزمان کے وکیل علی زمان ایڈوکیٹ، تفتیشی آفسر خوشحال اور پبلک پراسیکیوٹر جبکہ ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیرحسین گیگیانی پیش ہوئے۔سماعت شروع ہوئی تو ملزمان کے وکیل علی زمان ایڈوکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں مزید وقت درکار ہے تو سماعت ملتوی کی جائے۔اس پر فاضل جج نے کہا کہ کیس میں چالان جمع ہوگیا ملزمان نامزد ہوگئے اب قانونی طور پر ان ملزمان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہوں گے۔بعد ازاںخیبرپختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات اور ایڈوائزری کونسل کی رکن ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی شواہد اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر ہوگی اور پاکستان تحریک انصاف کے گرفتار ہونے والے دیگر رہنماؤں کے نام بھی سامنے آئیں گے۔پشاور میں زلمی مدرسہ لیگ کے ساتویں سیزن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات ثمر بلور نے صوبے کی سیاسی صورت حال، وفاق سے فنڈز کی فراہمی، دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع، تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مواقع سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں، تاہم تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائیں گی اور کسی کو بھی شواہد کے بغیر سزا نہیں دی جائے گی۔
سہیل آفریدی
