واشنگٹن، تہران، دوحہ ( نیوز ایجنسیاں) امریکی فوج نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر ممکنہ حملوں کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی ہے جبکہ امریکی فوج کو اجتماعی قبریں کھودنے کی ٹریننگ دینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے جس سے ہولناک جنگ کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ ادھر ایرانی رکن پارلیمنٹ نے سپریم لیڈر سے ایٹم بم تیاری کی منظوری مانگ لی جس سے ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے محسن رضائی کو براہ راست ملاقات کی پیشکش کردی ، علاوہ ازیں قطر نے ثالثی کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے وائٹ ہائوس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ممکنہ آپشنز پر بریفنگ دی۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور اجلاس سے براہ راست آگاہ افراد کا حوالہ دیتے رپورٹ میں بتایا کہ یہ وائٹ ہائوس میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کی غیر معمولی بالمشافہ ملاقات تھی اور یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔اجلاس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی شریک تھے۔بعض ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی، اس دوران دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ادھر امریکی حکام نے مشرق وسطی کے متعدد ممالک اور علاقائی اتحادیوں کو امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں کے لئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق دو سفارتکاروں نے بتایا کہ اتحادی ممالک کو ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی حملوں کے خطرے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔دریں اثناء امریکا میں ایک غیر معمولی فوجی مشق کے دوران بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی عارضی تدفین کے لیے اجتماعی قبریں کھودنے کی تربیت دی جارہی ہے۔امریکی فوج کے مطابق یہ مشق تقریبا ًسات دہائیوں بعد اس نوعیت کی بڑے پیمانے کی تیاریوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد مستقبل کی شدید جنگ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی صورت میں فوجی لاشوں کو محفوظ رکھنے اور بعد ازاں شناخت کے بعد اہل خانہ کے حوالے کرنے کا طریقہ جانچنا ہے۔ادھرترکیہ میں امریکہ کے سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے شام اور عراق کے لئے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔باراک نے دوحہ میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کشیدگی کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لئے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔انھوں نے کہا، ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اتنے قریب کہ یہ کہہ سکیں کہ آئیے ایک وقفہ لیں اور کشیدگی کی شدت کم کریں۔دوسری جانب ایران کے ایک رکن پارلیمنٹ محمود نبویان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ایٹم بم تیار کرنے کی اجازت دیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تجویز شہر قم میں ہونے والے ایک اجتماع کے دوران پیش کی، جہاں موجود افراد نے اس کی حمایت میں ردعمل دیا۔دریں اثناء امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی سے براہ راست ملاقات کی پیشکش کی ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہاہے کہ امریکی انتظامیہ کے نزدیک محسن رضائی کسی معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے اہم شخصیت ہیں۔امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ محسن رضائی سپریم لیڈر کے زیادہ نزدیک ہیں، ممکنہ ملاقات استنبول یا دوحہ میں ہو سکتی ہے، وینس نے گزشتہ ہفتے محسن رضائی کو خط بھیجا تھا۔ قبل ازیںامریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں قطر کے ثالث جمعے کو دوبارہ ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔قطری ثالثی کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانا ہے۔علاوہ ازیںایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقرقالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کے لیے تہران کی 7 شرائط تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں قالیباف نے کہا کہ ایران کی شرائط ثالثوں کو بارہا اور واضح طور پر بتائی جاچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دبا ئوڈالنے اور لالچ دینے کی پالیسی کا ایران پر کوئی اثر نہیں ہوگا، مذاکرات میں پیشرفت صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایران کی سات شرائط تسلیم کی جائیں۔
اجتماعی قبریں
