اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کے لیے نیپرا میں درخواست جمع کرا دی، ادھر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب ایل پی جی کی قیمتیں بھی امپورٹ پیریٹی پرائس پر طے کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے فارمولے پر عملدرآمد سے ایل پی جی کی موجودہ 295روپے فی کلو قیمت میں 200روپے سے زائد اضافے کا امکان ہے۔بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کے لیے نیپرا میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ درخواست سال 2026 کی تیسری سہ ماہی، جولائی سے ستمبر ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی ہے، فی یونٹ بجلی کتنی مہنگی ہوگی، اس کا فیصلہ نیپرا کرے گا۔درخواست میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 38 ارب 92 کروڑ روپے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس کی مد میں 5 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ روپے اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب انکریمنٹل پیکیج کے اثرات کی مد میں 29 ارب 25 کروڑ روپے کمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔جولائی سے ستمبر 2026کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا، نیپرا درخواست پر 17 نومبر کو سماعت کرے گا۔ادھر پیٹرولیم مصنوعات کے بعد اب ایل پی جی کی قیمتیں بھی امپورٹ پیریٹی پرائس پر طے ہوں گی۔سردیوں کا آغاز ہوتے ہی ایل پی جی کی شدید قلت اور ناجائز منافع خوری کے باعث حکومت نے نئی ایل پی جی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے ۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس کا مقصد بلیک مارکیٹنگ، مصنوعی قلت اور من مانے نرخ کا خاتمہ کر کے مارکیٹ میں مسابقت پیدا کرنا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا سردیوں شروع ہونے سے پہلے ہی مغربی سرحد پر رکاوٹوں کے باعث قلت کا سامنا تھا۔ قیمتوں میں کمی اور سرکاری نرخ پر فروخت یقینی بنانے کیلئے کوٹا سسٹم ختم کرکے مسابقتی نظام لایا جا رہا ہے۔ 4 بڑے سرکاری ادارے جی ٹو جی اور بی ٹو بی معاہدوں کے تحت ایل پی جی درآمد کریں گے۔ نجی شعبے کے درآمد کنندگان کو کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کرنے اور مسابقت کے لیے سپلائی کا انتظام کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔مستحق اور کمزور طبقات کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اہلیت کے معیار پر 300سے 350روپے فی کلو ایل پی جی فراہم کرنا بھی حکومتی منصوبے کا حصہ ہے۔حکام کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی ماہانہ کھپت 25لاکھ ٹن یعنی یومیہ 7ہزار ٹن ہے، جس کا 70فیصد حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔ پی ایس او، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ،سوئی سدرن اور پارکو کو سعودی عرب اور عمان سے سپلائی کی پیشکشیں بھی موصول ہو چکی ہیں۔ مستقبل میں زمینی راستوں کے بجائے سمندری راستے سے امپورٹ کو ترجیح دی جائے گی۔دوسری جانب توانائی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتوں کا بوجھ براہ راست صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔ نئے فارمولے پر عملدرآمد سے ایل پی جی کی موجودہ 295روپے فی کلو قیمت میں 200روپے سے زائد اضافے کا خدشہ ہے۔
بجلی صارفین
بجلی صارفین پر 23 ارنب 33 کروڑ کا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں ایل پی جی بھی امپورٹ پیریٹی پرائس پر طے کرنے کا اعلان 200روپےمہنگی ہونے کا امکان

