ریاض، دوحہ ( نیوز ایجنسیاں) سعودی اتحاد نے مدینہ منورہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنادی، عرب ممالک نے حوثیوں کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مدینہ منورہ کے علاقے کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا۔ تحاد نے یہ بھی دعوی کیا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی فضائی حدود میں ایک حوثی ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل قرار دیا۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔قطری وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کے تمام جائز اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔کویت، بحرین اور اردن نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ تعاون اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔دریں اثناء سعودی عرب نے وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں نے کارروائیاں روکنے کے بدلے 51ارب ڈالر اور یمن میں اپنی حکمرانی کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد کریملی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنی پوسٹ میں ان دعوئوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھنا چاہیے کہ یمن کی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔یاد رہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب سے اپنی کارروائیاں روکنے کے بدلے 51 ارب ڈالر اور یمن پر اپنی حکمرانی کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔رائد کریملی نے کہا کہ میں وال سٹریٹ جرنل میں شائع ان دعوں کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہوں۔ یہ سب یا تو لکھنے والوں کی یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت کہانی ہے۔ان کا کہناتھا کہ حوثیوں نے یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کی، یمنی عوام کو قحط اور مشکلات سے دوچار کیا اور ملک کو ایسے تنازعات میں دھکیل دیا جو یمن اور اس کے عوام کے مفاد میں نہیں۔رائد کریملی کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں، شہری تنصیبات اور معاشی اہداف کو نشانہ بنایا اور امن کی تمام کوششوں کو مسترد کیا۔ادھر ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی۔ترک میڈیا کے مطابق 600رکنی ترک پارلیمنٹ میں معاہدے کے حق میں 279ووٹ آئے جبکہ 119ارکان نے مخالفت کی، مجموعی طور پر 398ارکان نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا۔سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبد العزیز بن سعود نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کی گہرائی اور موجودہ جیو پولیٹیکل ماحول میں مشترکہ مفادات اور اسٹریٹجک رجحانات کی نزدیکی کی عکاسی کرتا ہے، یہ بحرانوں کا مقابلہ کرنے میں دونوں ملکوں کی قیادت کی حکمت کو مجسم کرنے والا ایک اہم قدم ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ بات شہزادہ عبد العزیز بن سعود اور ان کے ترک ہم منصب مصطفی چفتچی کے درمیان ترک دارالحکومت انقرہ میں ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ دونوں شخصیات نے ایک رسمی مذاکراتی نشست کا انعقاد کیا جس میں سکیورٹی امور اور علاقائی چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا۔
مدینہ منورہ
