واشنگٹن ‘ تہران(این این آئی)امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت ایران کے جوہری پروگرام، حساس تنصیبات، آلات، سائنس دانوں اور متعلقہ اہلکاروں کی نقل و حرکت کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر (20ملین ڈالر)تک کے انعام اور ممکنہ منتقلی (ری لوکیشن)کی پیشکش کی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)کے مطابق اس آفر کا مقصد تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے۔امریکا نے سال 1984 میں قائم کیے گئے اس پروگرام کے تحت سِگنل جیسی محفوظ انکرپٹڈ ایپ کے ذریعے معلومات بھیجنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ معلومات دینے والوں کا راز برقرار رکھا جا سکے۔یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر دوبارہ ممکنہ فضائی حملوں پر غور جاری ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان قطر کی وساطت سے سفارتی مذاکرات کا سلسہ بھی فعال ہے۔ اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ان کی انتظامیہ جنگ دوبارہ شروع کرنے یا کارروائی کو آگے بڑھانے کے معاملے پر جلد فیصلہ کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک کو تباہ کرنا نہیں چاہتے، لیکن شاید انہیں یہ قدم اٹھانا پڑے۔سینئر امریکی حکام کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں ممکنہ عسکری کارروائیوں کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے، تاہم واشنگٹن سے اب تک حتمی احکامات جاری ہونا باقی ہیں۔خطے میں نو نومبر کو نیا چاند نکلنے کی توقع ہے، جس کے بعد تاریک راتیں عسکری کارروائیوں کے لیے انتہائی سازگار تصور کی جاتی ہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ ایران 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے، جو کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار 90 فیصد کی حد کے انتہائی قریب ہے۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران کے عدم تعاون کے باعث اسے سینٹری فیوجز اور اہم آلات کے بارے میں باقاعدہ جانکاری میں مشکلات کا سامنا ہے۔امریکا کے اس 2 کروڑ ڈالر کے انعامی اعلان پر سفارتی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام خطے میں معلومات کے امریکی نیٹ ورک کے خلا کو پورا کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جاری سفارتی اور عسکری مذاکرات کے دوران تہران پر شدید سیاسی دبا بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی ہے۔امریکا ماضی میں بھی قومی سلامتی سے متعلق اہم معلومات کی فراہم پر لاکھوں ڈالر کے انعامات ادا کرتا رہا ہے، اور حالیہ اقدام خطے میں جاری شدید کشیدگی کی نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیفن ملر کو وائٹ ہائوس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کردیا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیفن معاملات کو سمجھتے ہیں، وہ بہترین کام کریں گے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات اچھے جا رہے ہیں۔اسٹیفن ملر پیر سے بطور وائٹ ہائووس چیف آف اسٹاف ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔یادر ہے کہ اسٹیفن ملر کو سوزی وائلز کی جگہ وائٹ ہاوس کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا ہے۔تفصیلات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد اپنی انتظامیہ میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اپنے دیرینہ ساتھی اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔ ملر کو امریکا میں تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں کا اہم منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وسط مدتی انتخابات میں شکست کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی میں مشکلات کے ساتھ دیگر معاملات پر کانگریس کی تحقیقات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسٹیفن ملر موجودہ چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ملر کو اپنے قابل اعتماد مشیروں میں سے ایک قرار دیا اور سوزی وائلز کی خدمات کو بھی سراہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم آئندہ صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کرنا چاہتے اور فی الحال محدود نوعیت کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب امریکی ٹی وی اینکر جیک ٹیپر نے صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد بتایا کہ امریکی صدر نے ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔جیک ٹیپر کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں شہریوں کا گھروں سے باہر نکلنا محفوظ نہیں، جبکہ آنے والے وقت میں وہاں حالات مزید غیرمحفوظ ہو سکتے ہیں۔امریکی صدر نے مزید دعوی کیا کہ امریکا نے ابھی ایران کو پوری شدت سے نشانہ بنانا شروع نہیں کیا اور ایک بڑی کارروائی جلد متوقع ہے۔ادھر قطری میڈیا آفس نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ نہ ہونے سے متعلق سامنے آنے والی خبر کو غلط قرار دے دیا ہے۔قطری میڈیا آفس کے مطابق قطری وزیراعظم کے بیان کو بعض ذرائع ابلاغ نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا، جس کے باعث غلط تاثر پیدا ہوا۔ادھر امریکا نے ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم کرانے کے لیے چین سے کردار ادا کرنے کی درخواست کر دی ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین سے رابطہ کیا، جس کے بعد چین نے امریکی پیغام ایران تک پہنچا دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو بھی ایک خط ارسال کیا تھا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایرانی قیادت امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران بھی ایران کے معاملے پر تعاون کی درخواست کی تھی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے معاملے پر امریکا کو اچھے نتائج مل رہے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو بری طرح شکست دی ہے اور آبنائے ہرمز اس وقت مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ گزشتہ چھ سے سات ماہ کے دوران امریکا نے کوئی فوجی نہیں کھویا۔امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکتا تو آج اسرائیل اور پورا مشرق وسطی موجود نہ ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا، تاہم سب جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بیلٹ پر موجود نہیں تھا، اگر ہوتا تو ہم جیت جاتے، ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار کے قریب بھی نہ پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کو بہت برے طریقے سے شکست دی، آبنائے ہرمز اس وقت مکمل طور پر کھلی ہے، ہم نے 6، 7 ماہ کے دوران اپنا کوئی فوجی نہیں کھویا۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل اور پورا مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، کوئی اس بات کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران خطے میں دشمن کے فوجی اڈوں کی دوبارہ تعمیر کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)سے وابستہ خبر رساں ادارے کے مطابق محمد اکرمینیا نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تعیناتی کی تنصیبات کے 228 سے زائد مقامات کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں اب کوئی امریکی فوجی اڈہ ایسا باقی نہیں رہا جہاں سے آپریشنل مشن انجام دیے جا سکیں۔محمد اکرمینیا نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ امریکی افواج کو اپنے بحری جہازوں کے لیے ایندھن اور فوجیوں کے لیے غذائی راشن خطے سے باہر کے ذرائع سے حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کی قطری کوششوں کے تسلسل کے دوران امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کشیدگی کے خاتمے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔امیرِ قطر نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے، بحری جہاز رانی کی آزادی اور توانائی کے وسائل کی فراہمی کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنمائوں نے بین الاقوامی کوششوں کی تازہ ترین صورتِ حال بالخصوص متعلقہ فریقوں کے درمیان نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے اور مذاکراتی عمل کی حمایت کے لیے قطر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر بات چیت کی، تاکہ ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کی جا سکے جو بحران کا خاتمہ کرے اور خطے میں امن و استحکام قائم کرے۔
