اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جنرل (ر) فیض علی چشتی نے کہا ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جب انگریز آیا تو ہندو سوچتے تھے پہلے اس گورے کو یہاں سے نکالیں اس کے بعد مسلمانوں سے بھی نمٹ لیں گے چینل ۵ کے پروگرام نیوز ایٹ 7 میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ آزادی تو 1857ءسے شروع تھی تحریک چلتے چلتے 1947ءمیں جا کر کامیاب ہوئی ہمارے زمانہ طالب علمی میں ہندو اور مسلمان طالب علموں کے درمیان لرائی جھگڑے نہیں ہوتے تھے مل جل کر سب تعلیم حاصل کرتے تھے قتل و غارت تب شروع ہوئی جب علیحدگی کا اعلان ہوا جب اعلان ہوا تو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کون سا حصہ پاکستان کے حصے میں آئے گا علیحدگی کا اعلان جلد بازی میں ہوا تھا مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ میں پاکستان جانا چاہتا ہوں یا بھارت میں رہنا چاہتا ہوں میں نے کہا میں پاکستان جاﺅں گا جس کے بعد میں پاکستان آ گیا علیحدگی کے وقت جو حصے پاکستان میں شامل ہونے تھے ان میں سے بیشتر آئے ہی نہیں پاکستان کو آزادی کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج پیشہ وارانہ امور میں ماہر ہے ملک فوج کی وجہ سے محفوظ ہے اگر فوج نہ ہو تو ہندوستان ہمارے ملک کو کھا جائے میں نے 1986ءمیں اپنے کالم میں لکھا تھا کہ احتساب کرو پاکستان کی بقاءاحتساب میں ہے۔

